حیات طیبہ — Page 114
114 اگلے دن ہم سب جامع مسجد میں چلے گئے۔ہم بارہ لے آدمی حضرت صاحب کے ساتھ تھے۔ہم جا کر جامع مسجد کے وسطی در میں بیٹھ گئے۔بعد کے حالات حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کی زبانی سنئے۔وہ فرماتے ہیں: اسی عرصہ میں مولوی نذیر حسین صاحب اور ساتھ اُن کے مولوی محمد حسین اور مولوی عبدالمجید وغیرہ علماء آگئے اور مولوی نذیر حسین صاحب کو الگ ایک دالان میں جا بٹھایا اور حضرت اقدس کے سامنے نہ لائے پھر عصر کی نماز ہوئی۔ان لوگوں نے چاہا کہ یہ نماز میں شریک ہوں۔کسی نے کہا آئے نماز پڑھ لیجئے۔مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا۔ہم نماز جمع کر کے آئے ہیں۔جب نماز ہو چکی۔پھر مولوی نذیر حسین کو مولویوں نے محاصرہ میں لے کر دالان میں جو دروازہ شمالی کی جانب تھا۔جابٹھایا۔مولوی عبدالمجید وغیرہ کئی مولوی آگئے اور افسر پولیس سے باتیں کرنے لگے۔ادھر سے (منشی ) غلام قادر ( صاحب فصیح) نے خوب سوال و جواب کئے اور یہاں تک بولے کہ جہاں تک بولنے کا حق تھا۔مولوی عبدالمجید صاحب نے پولیس افسر سے کہا که یه شخص مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے اور ہم تم کو ناحق پر جانتا ہے اور حضرت مسیح بن مریم کو جو ہم تم دونوں زندہ آسمان پر یقین کرتے ہیں۔یہ مردوں میں اور وفات شدوں میں جانتا ہے یہ کہتا ہے کہ مسیح کی حیات و وفات میں مولوی نذیر حسین گفتگو کریں اور ہم کہتے ہیں کہ خاص ان کے دعوی مسیح موعود ہونے میں بحث کریں۔غلام قادر صاحب فصیح نے منجملہ اور باتوں کے افسر پولیس سے کہا۔دیکھئے حضور۔جب تک عہدہ خالی نہ ہو تب تک کوئی اس کا ہرگز مستحق نہیں ہوتا۔جب پہلے مسیح کی وفات وحیات پر گفتگو ہولے۔تب آپ کے مسیح موعود ہونے میں گفتگو ہو۔ابھی تو یہ پرگنہ لوگ مسیح کو زندہ سمجھتے ہیں۔اگر حیات مسیح ثابت ہوگئی تو آپ کے دعوی مسیح موعود میں کلام کرنا عبث ہے۔یہ دعویٰ خود باطل اور رد ہو جاوے گا۔اور جو مسیح کی وفات ثابت ہوگئی تو پھر آپ کے مسیح موعود ہونے میں بحث کرنا ضروری ہے۔۔۔افسر پولیس نے کہا کہ بیشک یہ بات صحیح ہے۔تم لوگ کیوں اس میں گفتگو اور بحث نہیں کر لیتے۔وہ افسر تو اس بات پر جم گیا۔پھر قسم کے بارے میں گفتگو ہوئی۔اس سے بھی ان لوگوں نے انکار کیا اور کہا کہ مولوی صاحب بڑھے ہیں۔ضعیف ے ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔محمد خان صاحب شیخ رحمت اللہ صاحب۔منشی اروڑا خاں صاحب۔حافظ حامد علی صاحب مولوی عبدالکریم صاحب۔محمد سعید صاحب جو میر ناصر نواب صاحب کے بھانجے تھے۔اور منشی ظفر احمد صاحب راوی روایت ہذا۔راوی فرماتے ہیں۔یہ یاد پڑتا ہے کہ سید میر علی صاحب اور سید خصیات علی سیالکوٹی بھی تھے۔۲ از اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ ۱۲۹،۱۲۸