حیات طیبہ — Page 113
113 بالآخر مولوی سید نذیر حسین صاحب کو یہ بھی واضح رہے کہ اگر وہ اپنے عقیدہ کی تائید میں جو حضرت مسیح ابن مریم بجسده العنصر می زنده آسمان پر اُٹھائے گئے۔آیات صریحیہ قطعية الدلالت و احادیث صحیحہ متصله مرفوعه مجلس مباحثہ میں پیش کردیں اور جیسا کہ ایک امر کو عقیدہ قرار دینے کے لئے ضروری ہے۔یقینی اور قطعی ثبوت صعود جسمانی مسیح بن مریم کا جلسہ عام میں اپنی زبان مبارک سے بیان فرما دیں تو میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ فی آیت اور فی حدیث پچیس رو پید ان کی نذر کروں گا۔‘1 جلسه بحث ۲۰/اکتوبر ۱۸۹۱ء کی مختصر روئداد اگر چہ حضرت اقدس نے بذریعہ اشتہارات اس امر پر بھی نہایت زور دیا کہ مولوی محمد نذیر حسین صاحب آپ کے ساتھ حیات و وفات حضرت مسیح علیہ السلام میں تحریری مباحثہ کریں اور اہل دہلی کی بھی یہ بڑی خواہش تھی لیکن مولوی سید نذیر حسین صاحب نے نہ تو حیات و وفات مسیح میں مباحثہ کرنا منظور کیا اور نہ آپ کی یہ تجویز منظور کی کہ آپ دلائل وفات مسیح بیان فرمائیں اور ان کو سننے کے بعد مولوی صاحب حلفیہ بیان کر دیں کہ یہ دلائل از روئے آیاتِ قرآنیہ اور احادیث صحیحہ درست نہیں ہیں۔تو حضرت اقدس نے ایک خط حضرت منشی ظفر احمد کپور تھلوی اور حضرت خاں محمد خاں کپور تھلوی کو دے کر مولوی نذیر حسین صاحب کے پاس بھیجا چنا نچہ حضرت منشی ظفر احمد فرماتے ہیں :- اس ( خط ) میں حضور نے لکھا تھا کہ کل ہم جامع مسجد میں پہنچ جائیں گے۔اگر آپ نہ آئے تو خدا کی لعنت ہوگی۔ہم جب یہ خط لے کر گئے۔تو مولوی نذیر حسین صاحب نے کہا کہ تم باہر مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس چل کر بیٹھو۔خط انہیں دے دو۔میں آتا ہوں۔مولوی محمد حسین نے وہ خط کھول لیا۔پھر مولوی نذیر حسین صاحب آگئے اور انہوں نے مولوی محمد حسین سے پوچھا۔کہ خط میں کیا لکھا ہے مولوی محمد حسین نے کہا کہ میں نہیں سنا سکتا۔آپ کو بہت گالیاں دی ہیں۔اس وقت ایک دہلی کے رئیس بھی وہاں بیٹھے تھے اور انہوں نے بھی وہ خط پڑھ لیا تھا۔انہوں نے کہا خط میں تو کوئی گالی نہیں۔مولوی سید نذیر حسین صاحب نے ان سے کہا کہ کیا آپ بھی مرزائی ہو گئے ہیں؟ وہ چپ رہ گئے۔میں نے مولوی نذیر حسین صاحب سے کہا کہ جو جواب دینا ہو۔دے دیں۔مولوی محمد حسین نے کہا۔ہم کوئی جواب نہیں دیتے۔تم چلے جاؤ۔تم ایچی ہو۔خط تم نے پہنچا دیا ہے۔ہم نے کہا ہم جواب لے کر جائیں گے۔پھر لوگوں نے کہا کہ جانے دو۔غرض انہوں نے جواب نہیں دیا۔اور ہم نے واپس آکر سارا واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کر دیا۔ل از اشتہار ۱۷ اکتوبر ۱۸۹۱ء