حیات قدسی

by Other Authors

Page 604 of 688

حیات قدسی — Page 604

۶۰۴ ہے لاریب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا اور کامل ناصر اور جماعت انصار میں اپنی خاص شان کا انصاری ہوتا ہے۔درود شریف سے صفات الہیہ کا ظہور اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں ارشاد ہے وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 4 اس سے پہلے آتا ہے سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ان دو آیتوں کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے مرسلوں کو معصوم تسلیم کرنا ، ہر عیب اور ہر نقص سے پاک اور سلامتی کے ساتھ ماننا ہی اس بات کی دلیل اور علامت ہے کہ سب کی سب اور کامل حمد اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس کی حمد کی یہ شان ہے کہ وہ سب عالموں کی ربوبیت کا فیضان ہر وقت نازل فرما رہا ہے اور جس کی ربوبیت کے ماتحت خدا کے مرسلوں کی بعث ظہور میں آئی اور بالآخر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم الشان مرسل کو تمام دنیا کی قوموں اور سب عالموں کی ربوبیت کے لئے مبعوث فرمایا۔تا خدا تعالیٰ کی حمد کے اظہار کے علاوہ دہریوں اور مشرکوں پر یہ ثابت کرے کہ تیرا رب جس نے اے رسول تجھے مبعوث فرمایا بہت بڑی عزت والا ہے اور ان سب نقائص اور عیوب سے منزہ ہے جن کو اس قدوس اور سبوح ذات کی طرف جاہل مشرک اور دہر یہ لوگ منسوب کرتے ہیں۔پس صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا کے ارشاد میں صلوۃ کے علاوہ سلام بھیجنے کی غرض انہی معنوں میں ہے جیسا کہ اوپر بیان کر دیا گیا۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنے کے لئے جو الفاظ مسنونہ صلوٰۃ کے ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کی صفت حمید اور مجید کو پیش کیا گیا جس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کی حمد اور مجد کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرسل ہونے کی حیثیت اور آپ کی صداقت کے ظہور کے ساتھ خاص طور پر تعلق ہے۔آنحضرت کے اغراض و مقاصد درود شریف کو جب دعا کے طور پر پڑھا جائے تو چاہیئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اغراض و مقاصد کو ملحوظ رکھ کر ان کی تکمیل کے لئے دعا کی جائے۔آپ کے اغراض و مقاصد تین طرح پر ہیں ایک خالق کے متعلق دوسرے مخلوق کے متعلق تیسرے نفس کے متعلق۔خالق کے متعلق آپ کا