حیات قدسی — Page 598
۵۹۸ روشنی کے نا کافی ہے۔پھر آنکھ خارجی روشنی کے مختلف درجات سے مختلف قسم کے انکشافات کا فائدہ حاصل کرتی ہے چنانچہ معمولی چراغ کی روشنی میں آنکھ جس حد تک دیکھتی ہے۔بجلی کے قمقے کے ذریعہ اس سے زیادہ دیکھتی ہے اور چاند اور ستاروں کی روشنی میں اس پر جو انکشاف ہوتا ہے سورج جو غیر النہا ر ہے اس کی روشنی میں اس سے کہیں زیادہ انکشاف اس پر ہوتا ہے۔اسی طرح دور بین اور خوردبین کے شیشہ سے آنکھ جو کچھ دیکھ سکتی ہے اس کے بغیر وہ اس پر منکشف نہیں ہوتا۔عقل انسانی بھی خدا تعالیٰ کی وحی اور الہامی کلام کی دور بین اور خوردبین سے جو کچھ دیکھ سکتی ہے وہ اس کے بغیر ہرگز مشاہدہ میں نہیں آتا۔الہامی دور بین سے زمانہ ماضی اور مستقبل بعید کے واقعات بالکل قریب نظر آتے ہیں۔اور کلام الہی کی خورد بین سے باریک سے باریک اسرار اور غوامض جن تک عقلِ انسانی کی رسائی نہیں ہو سکتی نظر آ جاتے ہیں اس کی تصدیق کے طور پر میں نے فرعونِ موسیٰ کی لاش کے محفوظ رہنے کا انکشاف اور حضرت یوسف علیہ السلام کی فرعون مصر کے خواب کی تعبیر کا واقعہ جو قرآن کریم کی وحی میں مذکور ہے اس کا ذکر کیا نیز قرآن کریم میں جو آئندہ زمانہ کے متعلق پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں ان کا ذکر بطور مثال کے کیا۔سيدة النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال جب سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا تو خاکسار جنازہ میں شرکت کے لئے پشاور سے ربوہ حاضر ہوا۔اس سے قبل خاکسار نے یوم حشر کی طرح ایک نظارہ دیکھا تھا جو حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جنازہ کے اجتماع کے مشابہ تھا۔اس نظارہ کو دیکھ کر خاکسار شدت غم اور جذبات کے تلاطم کی وجہ سے از خود رفتہ ہو گیا اور اس موقع پر دو دفعہ مجھ پر غشی کی حالت طاری ہوئی۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے از راہ ترحم خسروانہ از راہ خاکسار کی طرف خاص توجہ فرمائی۔اس کے بعد خاکسار نے اپنے جذبات کا اظہار بطور مرثیہ کے عربی زبان میں کیا یہ عربی اشعار رسالہ البشرى فلسطین میں لام الـمـؤمـنـيـن بدا ارتحال کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں بعض اشعار ذیل میں درج کرتا ہوں