حیات قدسی — Page 42
۴۲ کا گاؤں بالکل دریائے چناب کے پاس میل ڈیڑھ پر واقع تھا۔رات جب ہم آپ کی بیٹھک میں سوئے تو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ آسمان پر سورج کے گردا گر دایک ہالہ سا پڑ گیا ہے۔اور سورج بالکل گرنے کے قریب ہے۔جب میں اس خواب کی دہشت سے بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اور بیٹھک کو چاروں طرف سے پانی نے گھیرا ہوا ہے۔اسی وقت میں نے سب دوستوں کو جگایا اور باہر نکالا۔خدا کی حکمت ہے کہ جب ہم سب دوست باہر آ گئے اور کچھ سامان بھی نکال لیا تو وہ بیٹھک دھڑام سے گر گئی۔اس کے بعد ہم کو چہ سے ہو کر پاس ہی ایک ماچھی ( سقہ ) کے مکان میں آگئے۔اتفاق کی بات ہے کہ یہاں پہنچتے ہی مجھے پھر غنودگی سی محسوس ہوئی اور ایک غیبی آواز آئی کہ یہاں سے بھی جلدی نکلو۔چنانچہ جب ہم اس گھر سے نکلے تو وہ بھی سیلاب کی نظر ہو گیا۔اس کے بعد ہم نے ایک مسجد میں پناہ لی تو وہاں جاتے ہی مجھے پھر نیند آ گئی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے پھر حکم ملا کہ یہاں سے بھی جلدی نکلو۔چنانچہ وہاں سے بھی ہم نکلے تو اس مسجد کی ایک دیوار گر گئی اور سیلاب کا پانی اس کے اندر امنڈ آیا۔ادھر حضرت حافظ صاحب نے جو اپنے گھر میں سوئے کے ہوئے تھے جب سیلاب کا زور اور بارش کا طوفان دیکھا تو لالٹین لے کر ہماری تلاش میں نکل پڑے اور ہمیں ڈھونڈ کر اپنے گھر لے گئے۔آخر خدا خدا کر کے پہر رات گذری اور ہم تبلیغی لیکچر دے کر اپنے گاؤں واپس آگئے۔اور اس موقع پر حضرت اقدس سیدنا مسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اعجازی برکات اور معجزانہ حفاظت اور بار بار کی الہامی تحریک اور ملائکہ کی تائید کے ذریعے ہمیں خدا تعالیٰ نے محفوظ رکھنے کا عجیب نشان دکھایا۔موضع را جیکی کا واقعہ میاں محمد الدین صاحب کشمیری جن سے میں نے سکندر نامہ تک فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ان کے والد ماجد میاں کریم بخش صاحب تھے جو کشمیر سے کسی حادثہ کی بناء پر ہمارے گاؤں آبیٹھے تھے اور یہیں ہمارے بزرگوں کی خدمت میں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی۔ایک دفعہ میاں محمد الدین صاحب کا چھوٹا بھائی میاں سلطان محمود سخت بیمار ہوا اور طبیبوں نے اس کی بیماری کو لا علاج قرار دے دیا تو اس کی بیوی مسماۃ زینب بی بی میرے پاس آئی۔اور بڑی لجاجت سے دعا کے لئے کہا۔اس وقت