حیات قدسی — Page 547
۵۴۷ ساکن اور آسمان کو دو لابی صورت میں چکر کھانے والا اور کواکب کو کوئیں کی ٹنڈوں اور ڈولوں کی طرح آسمان سے پیوست شدہ مانتے رہے اور بعد کے حکماء کی جدید تحقیق نے اس تحقیق کو غلط قرار دے کر اس پر پانی پھیر دیا اور موجودہ سائنس دانوں نے تجارب اور مشاہدات کی باریکیوں سے جہاں اپنی مادی عقل سے بال کی کھال اتار کر دکھائی اور سائنس کی موشگافیوں سے صنائع جدیدہ کا دروازہ کھول کرسٹیمر ، ہوائی جہاز، ریل، تار برقی ، ریڈیو، ٹیلی ویژن وغیرہ ایجادیں کیں۔وہاں اسی مادی عقل نے دنیا کا امن برباد کرنے کے لئے ہوا و ہوس کے بندوں سے آتشبار بم اور خونریز آتشی اسلحہ سے ملکوں کے ملک اور شہروں کے شہر ویران اور کھنڈرات بنا دیئے اور قوموں کو حربی جہنم کا ایندھن بنا کر راکھ کر دیا۔نمبر۱۱۔عقل انسانی صرف مادی قوانین ناقص طور پر تیار کرسکتی ہے جن کی خرابیوں کے نتائج آئے دن دنیا کی اقوام کو بھگتنے پڑتے ہیں اور ان میں تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔پس اس کے لئے کسی ایسے ضابطہ اور مجموعہ قوانین کی ضرورت ہے جو تمام انسانی ضروریات کے مطابق ہو اور انسانی تنگ خیالی اور تنگ نظری سے مبر اہو۔نمبر ۱۲۔انسانی قوانین کی گرفت کا خطرہ تمام لوگوں کو ہر وقت خلوت اور جلوت میں بدیوں اور بدا خلاقیوں سے روکنے میں ناکام و ناکارہ ثابت ہوا ہے مگر روحانی ضابطہ ہر حالت میں انسان کو بدیوں سے روکتا ہے۔اور اس بارے میں کامیاب ثابت ہوا ہے لہذا ضرورتِ مذہب ثابت ہے۔(٢) اب ذیل میں ان سوالات کے جوابات درج کئے جاتے ہیں جو بالعموم مذہب کے متعلق کئے جاتے ہیں۔سوال۔کیا مذ ہب انسان کی عقل کو کند کرتا ہے۔جواب۔(۱) عقل آنکھ کی طرح ہے۔کیا آنکھ کو ظاہری روشنی یا سرمہ بصارت افزاء یا دوربین اور خورد بین کا شیشہ کند کرتا ہے یا تیز کرتا ہے پس جس طرح کا فائدہ آنکھ کو خارجی نور اور روشنی اور خورد بین اور دور بین کے شیشہ وغیرہ کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے اسی پر مذہب اور الہام کا فائدہ عقل کی نسبت قیاس کر لینا چاہیئے۔