حیات قدسی — Page 427
۴۲۷ ناگوار ہے۔کاش وہ ایسا نہ کرتی۔راجہ یہ معلوم ہونے پر کہ لڑکی مسلمان ہو چکی ہے بہت سٹپٹایا اور سخت محسوس کرنے لگا اور اس نے کہا کہ اگر لڑ کی اور لڑ کا دونوں اپنی مرضی کرنے سے باز نہیں آ سکتے تو ملک سے باہر جا کر جہاں چاہیں شادی کر لیں۔ہمارے شہر اور ہمارے ملک میں انہیں رہنے کی اجازت نہ ہوگی۔اس پر سب وزراء چلا اٹھے کہ مہاراج ایسا ہر گز نہ کرنا۔ورنہ مہاراج اور سب شاہی خاندان کی عزت برباد ہو جائے گی۔پہلے تو صرف اپنے شہر اور ملک میں بدنامی کی ہوا پھیلی ہے پھر ملک سے باہر جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یہ لڑکی فلاں بادشاہ کی بیٹی ہے جو اس مسلمان سے بیاہی گئی ہے تو نہ صرف دنیوی لحاظ سے ذلت ہوگی بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی بدنامی ہوگی۔اس پر راجہ نے کہا کہ پھر اور کیا تدبیر ہو جس کا عمل میں لا نا مفید ہو سکے۔اس بارہ میں وزراء نے کچھ دن سوچ بچار کرنے کے لئے مہلت حاصل کی۔مہاراجہ نے جب محلات میں آکر مہا رانی کو وزراء کے مشورہ سے اطلاع دی اور والدہ کے ذریعہ لڑکی کو بھی علم ہوا تو لڑ کی اداس طبیعت کے ساتھ چھت پر چڑھ گئی اور اپنے آپ کو جنونِ عشق کی بے تابی کے حد برداشت سے باہر ہو کر نیچے گرا دیا۔اور گرتے ہی اس کا طائرِ روح قفس عنصری سے پرواز کر گیا۔اور شہر میں جا بجا چرچا ہونے لگا کہ شاہزادی محل خاص سے گر کر مرگئی اور مرکز اپنی منزلِ عشق کو ختم کر گئی۔جب عاشق کو معلوم ہوا تو و دوڑ کر آیا اور جب اسے یقین ہو گیا شاہزادی کے مرنے کی خبر غلط نہیں بلکہ امر واقعی ہے اور وہ اپنے آپ کو قربان کر گئی ہے تو شاہزادی کے عاشق زار نے کہا کہ جس خدا وند قدوس کے پاس میری پیاری شاہزادی پہنچی ہے۔اس پیارے اور محبوب ترین خدا کے قرب و وصال کے لئے کوشش کرنا چاہیئے۔سواس مقصد وحید کی تلاش میں وہ نکل پڑا۔پھرتے پھراتے اور جستجو کرتے ہوئے اس بزرگ اور ہادی ورہنما کے حضور پہنچا اور اس کے فرمانے پر اپنے عشق کا فسانہ ہاں عجیب اور دلچسپ فسانہ سنایا۔جب اس بزرگ پیرومرشد اور رہبر و رہنما نے دونوں قسم کے عاشقوں کا بیان سنا تو فرمایا کہ آپ دونوں صاحبوں سے مجھے اس طرح کے واقعات سننے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ میرا سلسلہ بیعت خدا تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کے طریق پر تبلیغی سلسلہ ہے اور میں اسلامی تبلیغ کے مجاہدہ کو بیعت کے بعد تزکیۂ نفس اور ا اصلاح حال کے لئے ضروری سمجھتا ہوں اور اعلائے کلمتہ اللہ کی راہ میں شیاطین مقابلہ کے لئے جہلاء اور ابنائے دنیا کو خوب برانگیختہ کرتے ہیں۔اور اسی کشمکش میں سعید روحیں اسلام کی صداقت کو قبول کر لیتی ہیں۔اور مخالفتوں کے جوش اور شور وشر سے ایک طرح کا اعلان اور شہرت ہو جاتی ہے۔اور اس