حیات قدسی

by Other Authors

Page 17 of 688

حیات قدسی — Page 17

۱۷ بات ہے تو آپ بڑی خوشی سے اس کتاب کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ تین چار روز کے لئے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں کیونکہ اس وقت میں تعمیلات کے لئے بعض دوسرے دیہات کے دورہ پر جا رہا ہوں واپسی پر یہ کتاب آپ سے لے لوں گا۔چنانچہ مولوی صاحب نے وہ کتاب سنبھال لی اور جاتے ہوئے گھر ساتھ لے گئے۔دوسرے دن جب میرا کسی کام سے مولوی صاحب کے یہاں جانا ہوا تو میں نے وہی کتاب جوسید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصنیف لطیف آئینہ کمالات اسلام تھی حضور اقدس کی چند نظموں کے اوراق کے ساتھ مولوی صاحب کی بیٹھک میں دیکھی۔جب میں نے نظموں کے اوراق پڑھنے شروع کئے تو ایک نظم اس مطلع سے شروع پائی سے عجب توریست در جان محمد عجب لعلیست در کان محمد میں اس نظم نعتیہ کو اول سے آخر تک پڑھتا گیا مگرسوز وگداز کا یہ عالم تھا کہ میری آنکھوں۔بے اختیا ر آنسو جاری ہو رہے تھے۔جب میں آخری شعر پر پہنچا کہ ے کرامت گر چه بے نام ونشاں است بیا بنگر ز غلمان محمد تو میرے دل میں تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش ہمیں بھی ایسے صاحب کرامات بزرگوں کی صحبت سے مستفیض ہونے کا موقع مل جاتا۔اس کے بعد جب میں نے ورق الٹا تو حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ منظومہ گرامی تحریر پایا۔ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے چنانچہ اسے پڑھتے ہوئے جب میں اس شعر پر پہنچا کہ کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے تو اس وقت میرے دل میں ان لوگوں کے متعلق جو حضور اقدس علیہ السلام کا نام ملحد و دجال وغیرہ رکھتے تھے ، بے حد تاسف پیدا ہوا۔اب مجھے انتظار تھا کہ مولوی امام الدین صاحب اندرون خانہ سے بیٹھک میں آئیں تو میں آپ سے اس پاکیزہ سرشت بزرگ کا حال دریافت کروں۔چنانچہ