حیات قدسی — Page 302
۳۰۲ لگے۔اس کے بعد ملاں صاحب اپنے گھر چلے گئے۔تھوڑی دیر میں کتیا بھی باہر سے گھوم گھام کر حجرہ میں آئی۔اپنے بچوں کو وہاں نہ پا کر وہ بہت ہی بے چین ہوئی۔اور بے تابانہ ادھر اُدھر پھرنے لگی۔آخر ان کو تلاش کر کے دوبارہ اسی حجرہ میں لے آئی۔تھوڑی دیر میں میرا کھانا گھر سے آیا۔جو اتفاق سے دودھ کی کھیر تھی۔میرے دل میں اس کتیا اور اس کے بچوں کے متعلق بے حد شفقت پیدا ہوئی۔اور میں نے محض خدا کی رضا کی خاطر کھیر کا برتن اس کتیا کے آگے رکھ دیا۔اس نے کھیر کھا کر اور بچوں کو کھلا کر خوشی کے اظہار کے لئے اونچی آواز سے تین ہونکیں ماریں۔اسی وقت سے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل واحسان اور انشراح صدر کی حالت مجھے نصیب ہوگئی۔اور مجھے یہ سب کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ ارْحَمُ تُرْحَمُ پر عمل کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔۔جو ہوتے ہیں مخلوق پر مہرباں کرے رحم ان پر خدائے جہاں یا دری غلام مسیح کے سوالات کا جواب 1909 ء میں خاکسار حضرت خلیفہ اسی اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے ارشاد کے ماتحت لاہور میں مقیم تھا۔ان دنوں لاہور میں گاہے گا ہے مختلف مذاہب کی طرف سے جلسے کئے جاتے جن کے میں اشتہارات کے ذریعہ دیگر اہل مذاہب کو بلایا جاتا۔دوسرے اسلامی فرقوں کے علماء میں سے تو بہت کم اس طرف توجہ کرتے۔لیکن ہم احمدی جب بھی عیسائیوں یا آریوں کی طرف سے دعوت دی جاتی ان جلسوں اور مناظروں میں شمولیت اختیار کرتے۔۱۹۰۹ء میں میں ابھی نیا نیا لاہور پہنچا تھا کہ عیسائیوں کی طرف سے ایک بڑا پوسٹر شائع کیا گیا۔جس میں ایک مرتد عیسائی غلام مسیح ( اس کا پہلا نام غلام محمد تھا) نے مسلمانوں کو بحث کے لئے چیلنج دیا تھا۔اور لکھا تھا کہ وہ قرآن کریم کے ذریعہ حضرت مسیح علیہ السلام کی فضیلت تمام انبیاء پر ثابت کرے گا۔اور مسلمانوں کو بھی بتایا جائے گا کہ وہ غلام محمد سے غلام مسیح کیسے بنا۔لیکچر کا انتظام نیلہ گنبد کے پاس ایک بڑے ہال میں کیا گیا۔عیسائیوں کے اشتہارات اور اعلانات کی وجہ سے مسلمان بھی کثرت کے ساتھ اپنے علماء کو لے کر پہنچے۔اور ہال با وجود کافی وسیع