حیات قدسی

by Other Authors

Page 283 of 688

حیات قدسی — Page 283

۲۸۳ حکم دیا کہ ایک شخص لیڈی کے دائیں کان کے پاس اور دوسرا بائیں کان کے قریب بندوق رکھ کر تیار ہو جائے اور ان کے اشارہ پر بیک وقت فائر کھول دے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔جوں ہی بندوقیں اور زور کا دھماکہ ہوا۔میم صاحبہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئیں۔یہ دیکھ کر حاضرین حیران رہ گئے۔اور وہ انگریز افسر تو یہ نظارہ دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑا۔ڈاکٹروں نے حکیم صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کو تشخیص کرنے کے بعد کیا سمجھ میں آیا۔حکیم صاحب نے بتایا کہ جب لیڈی صاحبہ کے شوہر نے مجھے بتایا کہ وہ ہنستی اور باتیں کرتی ہوئیں اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑی ہیں اور ان کو آٹھواں مہینہ عمل کا ہے۔تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ جنین پر بھی ماں کے ہنے کا اثر پڑتا ہے۔ممکن ہے کہ جنین نے فرط انبساط سے حرکت کی ہو۔اور اس سے بعض او تا را ور عروق میں جن کا قلب سے تعلق ہے کشیدگی پیدا ہوگئی ہو۔اور قلب اپنی نزاکت کی وجہ سے متاثر ہو کر غشی کا باعث ہوا ہو۔مجھے یہ خشی عام سکتہ کے مشابہ معلوم ہوئی۔اور جب میں نے میم صاحبہ کی آنکھوں کو بغور دیکھا تو ان کی پتلیوں میں مجھے زندگی کی علامت معلوم ہوئی۔معا میرے ذہن میں علاج کے لئے یہ تدبیر آئی کہ دو بندوقیں منگوا کر ان کے دھماکہ سے علاج کیا جائے ممکن ہے کہ جنین کے نازک ترین حواس دھما کہ کے اثر کے ماتحت رو بہ افاقہ ہو کر حرکت کرنے لگ جائیں۔اور اس کی حرکت سے وہ اوتار جو قلب کے لئے باعث صدمہ ہوئے ہیں۔اپنی اصلی حرکت پر آجائیں اور ان کی درستی سے قلب کی حرکت درست ہو جائے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل و احسان۔و احسان ہے کہ یہ طریق علاج کا میاب ہوا اور لیڈی صاحبہ کو شفا ہو گئی۔حکیم صاحب کی اس حیرت انگیز اور ندرت آفرین کامیابی پر اس انگریز افسر نے کئی ہزار روپے کی تھیلی ان کو بطور انعام دی۔اور اس طرح دہلی کے اس خاندان کی شہرت اور مقبولیت کا آغاز ہوا۔کوئٹہ کا ایک واقعہ کوئٹہ ( بلوچستان ) کے مشہور زلزلہ کے بعد خاکسار کو تبلیغی اغراض کے ماتحت کوئٹہ جانے اور وہاں پر کچھ عرصہ تک قیام کرنے کا موقع ملا۔ایک دفعہ وہاں کی جماعت کے ایک غریب احمدی دوست نے جو بہت مخلص اور دیندار تھے، میری دعوت کی۔جب میں ان کے گھر پہنچا۔اور ان کے مکان کو دیکھا تو وہ ایک چھوٹی سی کچی عمارت