حیات قدسی — Page 276
کی تجلیات کے مور د اور زندہ رسول کی برکتوں کے وارث بنے۔چوہدری فضل داد صاحب بجائے اس کے کہ میری باتوں کو سن کر کوئی استفسار کرتے۔اپنے پہلے فقرات کو ہی دہرانے لگے۔چوہدری اللہ داد صاحب نے بھی ان کو سمجھایا اور بے جا کلمات کے استعمال سے روکا۔لیکن وہ باز نہ آئے۔اور کہنے لگے کہ یہ مرزائی میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔میں نے کا عرض کیا کہ چوہدری صاحب ! ہمارے مقتدا و پیشوا اور ان کی جماعت کا مقصد بگاڑ نا نہیں بلکہ بنانا ہے۔پس ہماری تو یہی خواہش ہے کہ آپ کا اور آپ کے متعلقین کا کبھی کچھ نہ بگڑے۔یہ سن کر چوہدری صاحب غضب آلود لہجہ میں بولے کہ ہمیں تم سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں۔اور نہ ہی تمہارے مرزا سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔تو نے ہمیں کیا سمجھا ہے؟ ہم کسی کے محتاج نہیں۔میں نے عرض کیا کہ چوہدری صاحب! انسان اللہ تعالیٰ کا تو ہر وقت اور ہر آن محتاج ہے۔بلکہ عالم موجودات کا ذرہ ذرہ اس کا محتاج ہے۔انفسی طور پر بھی اور آفاقی طور پر بھی۔اور اس کے قوی، حواس اور اعضاء میں سے کوئی جاتا رہے یا اس میں اختلال واقع ہو جائے تو انسان اس نقصان کی تلافی محض اپنے ارادہ اور طاقت سے نہیں کر سکتا۔اسی طرح ہوا ، پانی ، آگ وغیرہ کی ہر وقت انسان کوضرورت ہے۔یہ سن کر چوہدری فصلدار کہنے لگے۔سن او مرزا ئیا ! میں تجھے اور تیرے مرزا کو کچھ نہیں سمجھتا۔میری گاؤں میں بڑی جائداد ہے۔اور ایک وسیع قطعہ اراضی کا مالک ہوں۔میں نے کہا۔کیا آپ کی جائداد مصر کی مملکت سے بھی زیادہ ہے۔کہنے لگے کہ اتنی نہ سہی۔لیکن پھر بھی ایک گاؤں کے بہت سے حصہ کا مالک ہوں۔میں نے کہا کہ اگر آپ دنیوی حکومت کو لگان نہ دیں تو وہ آپ کو اس اراضی سے بے دخل کر سکتی ہے تو خدائے ذوالجلال کی حکومت کیا کچھ نہیں کر سکتی۔کیا اس کے اختیار میں نہیں کہ جس کو چاہے حکومت کے تخت پر فائز کرے۔اور جس کو چا ہے۔حکومت سے بے دخل کر دے۔اس پر چوہدری صاحب کہنے لگے کہ " کیا تو اور تیرا مرزا خدا ہیں۔جو مجھے میری مملکت سے بے دخل کر دیں گئے“۔میں نے عرض کیا کہ میں اور میرے پیشوا کسی کو جائداد سے بے دخل کرنا نہیں چاہتے۔بلکہ ہماری یہ خواہش ہے کہ دنیوی حسنات کے ساتھ اخروی برکات بھی لوگوں کو حاصل ہوں۔ہاں جو شخص