حیات قدسی

by Other Authors

Page 266 of 688

حیات قدسی — Page 266

۲۶۶ طرح بادشاہ اپنے وزراء اور نائبین کی درخواستوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ قبول کرتے ہیں اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء راشدین کی دعائیں زیادہ قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہیں اور ہماری حاجت روائی کا باعث بنتی ہیں اور مبلغین جب جوش اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے نائبوں کی نیابت میں خدمت سلسلہ بجا لاتے ہیں۔تو ان کو بھی نصرت الہی سے نوازا جاتا ہے ہے۔چنانچہ میرے جیسے حقیر خادم کے لئے بھی بارہا اعجازی برکات کے نمونے ظاہر ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے میری مشکل کشائی اور حاجت روائی فرمائی ہے۔میرے نزدیک یہی دست غیب۔(چوہدری اللہ داد صاحب کے متعلق ایک واقعہ پہلے حصہ میں گذر چکا ہے) غیبی امداد ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان مقدس میں تھا۔اتفاق سے گھر میں اخراجات کے لئے کوئی رقم نہ تھی۔اور میری بیوی کہہ رہی تھیں کہ گھر کی ضروریات کے لئے کل کے واسطے کوئی رقم نہیں۔بچوں کی تعلیمی فیس بھی ادا نہیں ہو سکی۔سکول والے تقاضہ کر رہے ہیں بہت پریشانی ہے۔ابھی وہ یہ بات کہہ رہی تھیں کہ دفتر نظارت سے مجھے حکم پہنچا کہ دہلی اور کرنال وغیرہ میں بعض جلسوں کی تقریب ہے، آپ ایک وفد کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو کر ا بھی دفتر میں آجائیں۔جب میں دفتر میں جانے لگا تو میری اہلیہ نے پھر کہا کہ آپ لمبے سفر پر جا رہے ہیں۔اور گھر میں بچوں کے گزارا اور اخراجات کے لئے کوئی انتظام نہیں۔میں ان چھوٹے بچوں کے لئے کیا انتظام کروں؟ میں نے کہا کہ میں سلسلہ کا حکم نال نہیں سکتا۔صحابہ کرام جب اپنے اہل وعیال کو گھروں میں بے سروسامانی کی حالت میں چھوڑ کر جہاد کے لئے روانہ ہوتے تھے تو گھر والوں کو یہ بھی خطرہ ہوتا تھا کہ نہ معلوم وہ واپس آتے ہیں یا شہادت کا مرتبہ پا کر ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو جاتے ہیں۔اور بچے یتیم اور بیویاں بیوہ ہوتی ہیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ میں ہم سے اور ہمارے اہل وعیال سے نرم سلوک کیا گیا ہے۔اور ہمیں قتال اور حرب در پیش نہیں بلکہ زندہ سلامت آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔پس آپ کو اس نرم سلوک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالا نا چاہیئے۔اس پر میری بیوی خاموش ہو گئیں اور میں گھر سے نکلنے کے لئے باہر کے دروازہ کی طرف بڑھا۔اس حالت میں میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا۔کہ اے میرے محسن خدا تیرا یہ عاجز بندہ تیرے کام کے لئے روانہ ہورہا ہے اور گھر