حیات قدسی — Page 233
۲۳۳ الموسومہ ”جھوک مہدی والی کے ایک شعر کے متعلق سوال کیا۔جس کے جواب دیئے جانے پر خدا تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا۔اور اللہ تعالیٰ نے ان جوابات کو ایسا مؤثر بنایا کہ پچاسی افراد بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔پھر اسی گاؤں میں وہاں کے احمدی دوستوں کی درخواست پر ایک دفعہ خاکسار اور حضرت میر قاسم علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں گئے اور احباب جماعت کی خواہش تھی کہ ہم کچھ دن وہاں قیام کر کے تقاریر کریں اور درس و تدریس کے ذریعہ جماعت کی تربیت واصلاح کریں۔چنانچہ میں نے ہر روز صبح کے وقت وہاں درس دینا شروع کر دیا۔اس درس میں بعض غیر احمدی بھی شامل ہوتے رہے۔ایک دن گاؤں کے نمبر دار چوہدری خان محمد صاحب بھی حلقہ درس میں شامل ہوئے درس سننے کے بعد کہنے لگے کہ آپ تو لوگوں کو یکطرفہ درس سناتے ہیں۔جب تک ہماری طرف سے بھی کوئی عالم بالمقابل آپ کی باتوں کا جواب نہ دے۔ہمیں حقیقت کس طرح معلوم ہو۔جب ہماری طرف سے ہر طرح آمادگی کا اظہار کیا گیا تو چوہدری صاحب رو پڑ ضلع انبالہ میں جا کر اپنے ساتھ آٹھ غیر احمدی علماء جن میں سے اکثر مولوی فاضل تھے لے آئے۔ان میں سے سب سے بڑے عالم مولوی محمد عبداللہ صاحب فاضل تھے جو تمام علاقہ میں خاص شہرت رکھتے تھے۔یہ سب علما ء اپنے ساتھ صد ہا کتب بھی بحث کے لئے لائے تھے۔تیسرے دن بارہ بجے دو پہر سے تین بجے بعد دو پہر تک مناظرہ کا وقت مقرر ہوا۔احمدیوں کی طرف سے خاکسار مناظر اور حضرت میر قاسم علی صاحب صدر مقرر ہوئے اور غیر احمدیوں کی طرف سے چوہدری خان محمد صاحب صدر اور مولوی محمد عبد اللہ صاحب فاضل مناظر مقرر ہوئے۔بحیثیت مدعی پہلی تقریر آدھ گھنٹے کی میری تھی جس میں میں نے صداقت مسیح موعود کے دلائل مع دلائل وفات مسیح بیان کئے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کے متعلق بھی تشریح کی۔جناب مولوی صاحب نے اپنی جوابی تقریر میں یہ فرمایا کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔اس لئے آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔جو بھی آپ کے بعد دعوی نبوت کا کرے وہ دجال ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تمہیں دجال ہوں گے۔پس مرزا صاحب کو اگر احمدی دجالوں کی فہرست میں شامل کر لیں تو خیر۔ورنہ وہ سچے نبی اور مامور نہیں