حیات قدسی

by Other Authors

Page 100 of 688

حیات قدسی — Page 100

کہ اس کی پیشانی پر لا کا حرف لکھتے جائیں اور درود شریف پڑھتے جائیں تو انشاء اللہ درد دور ہو جائے گا۔چنانچہ جب میں نے اس خواب کا ذکر ایک مرتبہ موضع پٹی مغلاں میں کیا تو وہاں کے ایک احمدی دوست مرزا افضل بیگ صاحب نے اس کا بارہا تجربہ کیا اور لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔الحمد لله على ذالک جذبہ عشق نو جوانی کے زمانہ میں جبکہ میری عمر کوئی اکیس بائیس سال کی ہوگی خدا کے فضل سے مجھ میں اچھی طاقت تھی اور میں ایک لاٹھی کے دونو سروں پر چار آدمی بٹھا کر عموماً ایک ہاتھ سے اٹھا لیا کرتا تھا۔ایسا ہی جب بعض چلہ کشیوں کے اثر سے مجھے عسر النفس کی بیماری ہوئی تو میں دو آدمی بغلوں میں دبا کر بے تکلف بھاگ لیا کرتا تھا علاوہ ازیں گھوڑا دوڑانے اور چھلانگ لگانے اور اونچی سے اونچی دیوار پر بھاگ کر چڑھنے کی بھی مجھے مہارت تھی۔ڈھائی ڈھائی من پختہ کی موگریاں بھی میں نے پھیری ہیں ، ایسا ہی بازو پکڑنے میں بھی مجھے اچھی مشق حاصل تھی۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل یہ بھی مجھے حاصل ہے کہ میں نے پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہات میں جہاں غیر احمدی مناظرین کو ہر طرح کا علمی چیلنج دیا ہے وہاں انہیں جسمانی مقابلہ کے لئے بھی کئی مرتبہ للکارا ہے مگر آج تک ان میں سے کوئی مقابلہ کے لئے تیار نہیں ہوا۔الحمد للہ علی ذالک ان تمہیدی باتوں کے بیان کرنے کی وجہ دراصل یہ ہوئی ہے کہ ۱۹۰۴ء میں جبکہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیالکوٹ تشریف لائے تو ہم ضلع گجرات کے کچھ دوست بھی حضور اقدس کی زیارت کے لئے سیالکوٹ پہنچے۔دوسرے دن حضور اقدس کے متعلق ہمیں معلوم ہوا کہ حضور میر حسام الدین صاحب کی مسجد کے ملحقہ مکان میں قیام فرما ہیں اور بعض زائرین کی خاطر حضور مسجد کے برآمدہ کی چھت پر تشریف لائیں گے۔چنانچہ حضور علیہ السلام کے آنے سے پیشتر ہی باہر کے علاقوں کے زائرین مسجد میں پہنچ گئے اور ہم بھی کبوتر انوالی مسجد سے وہاں پہنچے مگر اس وقت منتظمین نے لوگوں کے زیادہ اثر دھام کی وجہ سے مسجد کا دروازہ اندر سے بند کر لیا تھا۔ہم نے جس وقت دروازہ کو اندر سے بند پایا تو بہت پریشان ہوئے اور برآمدہ کی پچھلی دیوار جو کو چہ میں جنوب کی طرف تھی وہاں