حیات قدسی — Page 621
۶۲۱ معمول نے مجھے سلام کہا فورا مٹی کے برتنوں کی تین قطار میں اس کمرہ میں جو ہم سے فاصلہ پر تھا جس میں تقریباً سات سات آٹھ آٹھ برتن نیچے اوپر رکھے ہوئے تھے دھڑام سے نیچے گریں اور اسی وقت اس مریضہ نے کلمہ پڑھا اور ہوش میں آگئی۔میرے لئے حضرت اقدس علیہ السلام کی یہ برکات روحانیہ بھی سلسلہ تبلیغ میں بہت ہی مفید ثابت ہوئیں اور اس کے بعد اس علاقہ میں میرے لئے تبلیغ سلسلہ کا میدان بہت ہموار ہو گیا۔الحمد للہ تعالیٰ۔موضع را جیکی کا ایک واقعہ ایسا ہی موضع را جیکی میں میرے فارسی کے استاد میاں محمد صاحب کشمیری کے منجھلے بھائی میاں امام دین کی لڑکی کو بھی شدید دورہ پڑا۔مگر میاں امام دین چونکہ احمدیت کی وجہ سے میرا بدترین دشمن تھا اس لئے میرے پاس نہ آیا۔اور میرے چا زاد بھائی حافظ غلام حسین صاحب جو اس علاقہ میں عامل اور ولی مشہور تھے ان کے پاس گیا انہوں نے حسب معمول بعض تعویذات دیئے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔اس لڑکی کے گھر والوں اور گاؤں کے اکثر لوگوں نے جب اس کی نا گفتا به حالت دیکھی تو میاں امام دین کو مجبور کیا کہ وہ میرے پاس آکر اپنی لڑکی کے علاج کے متعلق درخواست کرے لیکن میاں امام دین نے کہا کہ خواہ میری لڑکی مرجائے میں اس کا فر سے کبھی استمداد نہیں کروں گا۔خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس لڑکی کی حالت اور بھی خراب ہو گئی اور اس پر ایسی دیوانگی طاری ہوئی کہ پانچ پانچ چھ چھ آدمیوں کو اس نے جھٹک کر بھاگنا شروع کر دیا۔گاؤں والوں نے جب یہ حالت دیکھی تو انہوں نے میاں امام دین مذکور کو برا بھلا کہتے ہوئے غیرت دلائی اور سمجھایا کہ اگر تم اپنی عزت اور لڑکی کی خیریت چاہتے ہو تو ابھی مرزائی میاں صاحب کے پاس جاؤ اور ان کی منت زاری کرو۔وہ ضرور مان جائیں گے اور ان کے منانے کا یہی طریقہ ہے کہ تم ان کے پاس جاتے ہی مرزا صاحب کی تعریف شروع کر دو اور پھر ایک دو گھنٹہ کے لئے ان کی تبلیغی باتیں بھی سن لو اس طرح وہ ضرور راضی ہو جائیں گے اور تمہارا کام بھی ہو جائے گا۔اس پر امام دین نے مجبور ہو کر اپنے لڑکے غلام الدین نام کو بھیجا مگر میں نے اسے یہ جواب دے کر واپس کر دیا کہ جب یہ آسیب اس علاقہ کے بڑے بڑے ولیوں اور مومنوں سے نہیں نکلا تو میرے جیسے آدمی سے جسے تم لوگ کا فر سمجھتے ہو کیسے نکل سکتا ہے۔جاؤ کوئی اور چارہ جوئی کرو۔لڑکے نے واپس جا کر اپنے باپ کو میرا یہ جواب سنایا تو وہی امام دین جو پہلے احمدیت کی وجہ سے میری شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔