حیات قدسی — Page 620
۶۲۰ کی تسلی اور پختگی کے لئے بعض صورتوں میں اس طلسم کے ٹوٹنے کی ایک ظاہری علامت بھی قائم کر دی۔واللہ اعلم بالصواب ولا علم لنا الا ما علمنا الله العظيم والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد۔ربوہ ۵/۵/۵۷ موضع سعد اللہ پور کا واقعہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں ایک دفعہ موضع سعد اللہ پور میں ایک نوجوان لڑکی کو آسیب جسے جن چڑھنا بھی کہتے ہیں، اس کا شدید دورہ ہوا اور اس کے رشتہ داروں نے دور دور کے پیروں فقیروں اور عاملوں کو اس کے علاج کے لئے بلایا۔مگر ان عاملوں نے جب اس لڑکی کا علاج شروع کیا تو اس لڑکی نے ان کو گالیاں دیں اور اینٹیں بھی ماریں۔اس کے بعد مکرم مولوی غوث محمد صاحب احمدی رضی اللہ عنہ ( جو اس گاؤں کے باشندہ تھے اور کچھ اس قسم کے عملیات کا تجربہ بھی رکھتے تھے ) بھی اس لڑکی کے علاج کے لئے بلائے گئے مگر ان کے ساتھ بھی لڑکی نے پہلے عاملوں جیسا سلوک کیا۔آخر مولوی غوث محمد صاحب نے ایک آدمی کو رقعہ دے کر گھوڑے پر میری طرف دوڑایا اور پیغام بھیجا کہ جتنی جلدی ہو سکے آپ موضع سعد اللہ پور پہنچئے۔چنانچہ میں اسی وقت موضع مذکور میں پہنچا اور مولوی غوث محمد صاحب سے مل کر کیفیت دریافت کی۔انہوں نے اس لڑکی کی ساری سرگذشت سنائی اور مجھے اپنے ساتھ اس لڑکی والے مکان کی طرف لے گئے۔میں جب وہاں پہنچا تو اس حویلی کے آس پاس کے کوٹھوں پر مخلوق کا اثر دھام پایا جو اس حویلی کے اندر اس آسیب زدہ لڑکی کا نظارہ کر رہے تھے۔خدا کی حکمت ہے کہ جب میں اس لڑکی والی حویلی میں داخل ہوا تو اسی وقت وہ لڑکی میرے لئے صحن میں چار پائی لے آئی اور بچھا دی۔چنانچہ میں اس چار پائی پر بیٹھ گیا اور اس معمول کو حکم دیا کہ تم اس لڑکی کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔اس معمول نے کہا کہ آپ ہمارے بزرگ اور پیشوا ہیں اس لئے آپ کا حکم سر آنکھوں پر مگر میں جاتے ہوئے اس مکان کے چھت کی تعمی (ستون) گرا جاؤں گا۔میں نے کہا یہ بات تو ٹھیک نہیں اس سے ان گھر والوں کا بہت نقصان ہو گا۔یہ سن کر اس نے کہا تو اچھا پھر میں سامنے طاقچے پر رکھے ہوئے برتنوں کی تین قطار میں گرا دوں گا۔میں نے سمجھا کہ اس میں چنداں مضائقہ نہیں۔چنانچہ جب وہ لڑکی میرے پاس صحن میں بیٹھی تھی تو جو نہی اس