حیات قدسی — Page 617
पाट حضرت مخدومی المکرم میاں صاحب مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں :۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے موضع سعد اللہ پور ضلع گجرات اور موضع را جیکی ضلع گجرات کا ایک ایک واقعہ اور لاہور شہر کے دو واقعات لکھے ہیں۔جن میں ان کی دعا اور روحانی توجہ کے ذریعہ آسیب زدہ لوگوں کو شفا حاصل ہوئی۔جہاں تک کسی کے آسیب زدہ ہونے کا سوال ہے، میرا نظریہ یہ ہے کہ یہ ایک قسم کی ہسٹیریا کی بیماری ہے۔جس میں بیمار شخص اپنے غیر شعوری یعنی سب کانشنس خیال کے تحت اپنے آپ کو بیمار یا کسی غیر مرئی روح سے متاثر خیال کرتا ہے اور اس تاثر میں اس شخص کی سابقہ زندگی کے حالات اور اس کی خواہشات اور اس کے خطرات غیر شعوری طور پر اثر انداز ہوتے ہیں یہ بھی ایک قسم کی بیماری ہے مگر یہ احساس بیماری ہے حقیقی بیماری نہیں۔اسلام ملائکہ اور جنات کے وجود کا تو قائل ہے اور قرآن کریم میں اس کا ذکر موجود ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نظامِ عالم کو چلاتے اور لوگوں کے دلوں میں نیکی کی تحریک کرتے اور بدیوں کے خلاف احساس پیدا کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں اور نہ اس کا کوئی شرعی ثبوت ملتا ہے کہ جنات لوگوں کو چمٹ کر اور ان کے دل و دماغ پر سوار ہو کر لوگوں سے مختلف قسم کی حرکات کرواتے ہیں۔یہ نظریہ اسلام کی تعلیم اور انسان کی آزادی ضمیر کے سراسر خلاف ہے۔اس کے علاوہ اسلام نے جنات کا مفہوم ایسا وسیع بیان کیا ہے کہ اس میں بعض خاص مخفی ارواح کے علاوہ نہ نظر آنے والے حشرات اور جراثیم بھی شامل ہیں۔چنانچہ حدیث میں جو یہ آتا ہے کہ اپنے کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو ورنہ ان میں جنات داخل ہو جائیں گے۔اس سے یہی مراد ہے کہ بیماریوں کے جراثیم سے اپنی خورد ونوش کی چیزوں کو محفوظ رکھو۔بہر حال جنات کا وجود تو ثابت ہے اور خدا تعالیٰ کے نظام میں حقیقت تو ضرور ہے مگر کھیل نہیں۔اس لئے میں اس بات کو نہیں مانتا خواہ اس کے خلاف بظا ہر غلط فہمی پیدا کرنے والی اور دھوکا دینے والی باتیں موجود ہوں کہ کوئی جنات ایسے بھی ہیں جو انسانوں کو اپنے