حیات قدسی

by Other Authors

Page 47 of 688

حیات قدسی — Page 47

۴۷ ہو گیا۔اور کہنے لگا کہ بھائی مان لیا ہے کہ مرزائی پکے جادو گر ہیں اور اس فن میں کمال رکھتے ہیں۔اس کے بعد میں نے حکیم غلام حسین کو کہا کہ جس بات کو آپ نے حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا معیار ٹھیرا کر معجزہ طلب کیا تھا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس وقت آپ پر اتمام حجت کر دی ہے اور علمی رنگ میں تو پہلے بھی آپ بار ہا سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات اور علامات ملاحظہ کر چکے ہیں اس لئے اب بھی اگر آپ نے احمدیت قبول کرنے سے اعراض کیا تو یا درکھئے پھر آپ خدا تعالیٰ کے مواخذہ اور گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ چند روز کے بعد اس دنیا سے کوچ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کو اپنی موت سے ثابت کر گیا۔تاثیر دعا موضع راجیکی میں ہمارا ایک حجام محمد الدین نائی رہتا تھا۔اس کی شادی پر تقریباً بیس سال کا عرصہ گذر چکا تھا مگر اولاد کی نعمت سے محروم تھا۔چونکہ اس کے گھرانے کو ہمارے چچا زاد بھائی حافظ غلام حسین صاحب اور ہمارے چا صاحب حضرت میاں علم الدین صاحب کے ساتھ بے حد عقیدت تھی اس لئے یہ حجام اور اس کی بیوی مسماۃ سیداں اکثر ان دونوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اولاد کے لئے دعائیں اور تعویذات کراتے رہتے تھے۔ایک لمبا عرصہ کے بعد جب ان کے کی دعاؤں اور تعویذوں سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا تو یہ لوگ اولاد سے مایوس ہو گئے۔اس زمانہ کے میں اگر چہ احمدیت کی برکت سے اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیضان سے میری دعاؤں اور ان کے اثرات کا عام چرچا تھا۔مگر علماء کے فتاویٰ تکفیر اور مقاطعہ کی وجہ سے ان لوگوں کو میرے پاس آنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔پھر محمد الدین حجام اور اس کی بیوی سیداں میرے پاس آنے سے اس وجہ سے بھی گریز کرتے تھے کہ اگر حافظ صاحب کو پتہ چل گیا تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔آخران میاں بیوی کی حالت یہاں تک پہنچی کہ ایک دن سیداں نے ان دونوں بزرگوں کی خدمت میں کہا کہ اگر لڑ کا نہیں ہو سکتا تو نہ سہی میرے گھر میں لڑکی ہی پیدا ہو جائے یہی غنیمت ہے۔تو ایک دن میرے چچا حضرت میاں علم الدین نے اس کو کہا کہ تم میاں غلام رسول کے پاس جاؤ اور اس سے دعا کراؤ کیونکہ خدا تعالیٰ اس کی دعائیں قبول بھی کرتا ہے اور پھر بذریعہ بشارات اسے اطلاع بھی دے دیتا ؟ ہے۔سیداں نے جب یہ بات سنی تو اس نے کہا کہ میاں غلام رسول صاحب سے ایک تو مجھے شرم آتی