حیات قدسی — Page 595
۵۹۵ کو دکھایا اور جب انہوں نے یہ حوالہ دیکھ کر کئی ہزار کے مجمع میں اس کی تصدیق کی تو میں نے یہ حوالہ جناب مجتہد العصر صاحب کو دکھایا۔جب انہوں نے یہ حوالہ دیکھا تو ان کا چہرہ زرد پڑ گیا اور میں نے بآواز بلند حاضرین کے سامنے اعلان کیا کہ علامہ صاحب بڑی تحدی سے یہ کہتے تھے کہ یہ حوالہ درست نہیں اور خاتم الاولیاء کے الفاظ اس حدیث میں ہر گز پائے نہیں جاتے یہ احمدیت کی صداقت کا کتنا بڑا نشان ہے کہ جس بات کو جناب مجتہد العصر صاحب ناممکن قرار دیتے تھے وہ ممکن ہو گئی اور احمدیت کے حق میں حوالہ صحیح ثابت ہو گیا۔میرے اس اعلان سے حاضرین پر خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا اثر ہوا کہ اسی وقت آٹھ آدمیوں کو نے احمدیت قبول کرنے کا اعلان مجمع میں کیا۔یہ اعلان سن کر شیعہ مناظر شکستہ دل ہو کر مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسی وقت ( باوجود لوگوں کے اصرار کے کہ وہ مزید ٹھہریں ) سواری کا انتظام کرا کے لکھنو کے لئے روانہ ہو گئے۔اس سے پہلے مدرسہ چٹھہ میں صرف ایک احمدی تھا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے نو افراد کی جماعت ہو گئی۔اس کے بعد اسی موضع میں سید ذوالفقار علی صاحب کے ساتھ میرا مناظرہ ہوا۔جس میں ۱۲ افراد نے بیعت کی۔اب اس گاؤں میں صرف ایک گھر شیعوں کا باقی ہے اور تقریباً سارا گاؤں احمدی ہو چکا ہے۔مکرمی چوہدری محمد حیات صاحب وہاں کے رئیس اور مخلص اور با اثر احمدی ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کا حافظ و ناصر ہو۔آمین رضائے الہی سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ وارضاہ نے ایک مجلس میں جس میں یہ حقیر خادم بھی حاضر تھا۔بیان فرمایا کہ ہمارا ایک پرانا دوست جو معززانہ پوزیشن کا مالک تھا ، ملاقات کے لئے ہمارے گھر پر آیا۔ہم نے اسی وقت گھر میں چائے کا انتظام کرنے کے لئے کہا اور جب چائے تیار ہو کر آئی تو ہم نے اپنے دوست کو کہا کہ آپ کے لئے چائے تیار کر وائی ہے نوش فرمائیے۔یہ بات سنتے ہی ہمارے وہ دوست برافروختہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ آپ نے یہ بات کہہ کر ہماری ہتک کی ہے کیا ہم نے اس سے پہلے کبھی چائے نہیں پی جو آپ خاص طور پر اس کی تیاری کا ذکر کر رہے ہیں۔