حیات قدسی — Page 594
۵۹۴ بھی ممبر کامیاب نہ ہو سکا اور جماعت اور ملک کو جو فائدہ احمدی ممبروں کی وجہ سے پہنچنا تھا اس سے محرومی ہو گئی۔اس الہام میں اسی طرف اشارہ تھا اور خدا تعالیٰ نے بعد کے حالات سے اس الہام کی تصدیق فرما دی۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے احمدیت کے نور کو پھیلانے کے بہترین اسباب پیدا فرمائے اور مخالفین احمدیت کی آنکھیں کھول کر ان کو اس آسمانی نور کی شناخت کی توفیق بخشے۔آمین۔مدرسہ چٹھہ میں شیعہ مجہتد العصر سے مناظرہ مدت مدید کی بات ہے کہ خاکسار نے شیعہ علماء کی تفاسیر کا بالاستیعاب مطالعہ کیا۔جب میں تفسیر صافی پڑھ رہا تھا تو سورہ احزاب کی آیت خاتم النبیین کے تفسیری نوٹوں کے ضمن میں یہ حدیث درج تھی کہ انــا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَ يَا عَلِيُّ اَنْتَ خَاتَمُ الْأَوْلِيَاءِ ن یعنی میں خاتم الانبیا ہوں اور اے علی تم خاتم اولیا ہو۔اس حدیث سے مختلف مناظروں میں بالخصوص شیعہ حضرات کے ساتھ بحث میں ہم نے بہت فائدہ اٹھایا چنانچہ ایک دفعہ ضلع گوجرانوالہ کے گاؤں مدرسہ چٹھہ میں میرا مناظرہ شیعوں کے مناظر علامہ فضل الدین مجتہد العصر سے ( جولکھنو سے خاص طور پر مناظرہ کے لئے بلائے گئے تھے ) ہوا۔موضوع بحث شیعوں کی طرف سے مسئلہ ختم نبوت رکھا گیا اور یہ مسئلہ شیعوں نے اس لئے رکھا تا کہ مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی احمدیوں کے خلاف ہمدردی حاصل کی جاسکے۔میں نے اجراء نبوت کی تائید میں علاوہ اور دلائل کے تفسیر صافی سے مذکورہ بالا حدیث پیش کی میرے پاس ایران کی مطبوعہ تفسیر موجود تھی۔جب میں نے یہ حوالہ پیش کیا تو شیعہ مناظر صاحب نے میری تقریر کے دوران میں ہی شور مچانا شروع کر دیا۔اور ”غلط ” غلط کہنا شروع کیا۔میں نے عرض کیا جناب علامہ صاحب آپ کے نزدیک کونسی بات غلط ہے اس پر شیعہ مناظر صاحب نے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق خاتم اولیا کے الفاظ نہیں بلکہ خاتم الاوصیاء کے الفاظ ہیں جب انہوں نے اصرار کے ساتھ اپنا اعتراض دہرایا تو میں نے ان پر حجت قائم کرنے کے لئے کہا کہ اس حوالہ پر مناظرہ کا فیصلہ رکھا جائے۔انہوں نے اور دوسرے حاضرین نے جب اس کو قبول کیا تو میں نے ایران کی مطبوعہ تفسیر صافی سے اصل حوالہ نکال کر پہلے اہل حدیث اور حنفی علماء کے پاس جا کر ان