حیات قدسی — Page 593
۵۹۳ اس کے کچھ عرصہ بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے قادیان کی مسجد مبارک میں مجلس علم و عرفان میں تقریر کرتے ہوئے ہدایت فرمائی۔کہ نو جوانوں کو چاہیئے کہ وہ ہر نماز کے فرضوں کے بعد بارہ دفعہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیم اور بارہ دفعہ درود شریف پڑھا کریں۔یہ ہدایت زیادہ تر ممبران خدام الاحمدیہ کو تھی۔لیکن خاکسار نے اسی دن سے اس پر باقاعدہ عمل شروع کر دیا اور آج تک بالالتزام اس ہدایت پر عمل پیرا ہے۔اس عمل سے بفضلہ تعالیٰ مجھے بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔جن میں سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے تصفیہ قلب اور تجلیہ روح کے ذریعہ ایک عجیب قسم کی انارت محسوس ہونے لگی اور جس طرح آفتاب و مہتاب کی روشنی کو آنکھ محسوس کرتی ہے اسی طرح میرا قلب دعا کے وقت اکثر کبھی بجلی کے قمقمے کی طرح اور کبھی گیس لیمپ کی طرح منور ہو جاتا ہے اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا وجود سر سے پاوں تک باطنی طور پر نورانی ہو گیا ہے۔اور جب سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کی توفیق ملے۔یا صحابہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام میں سے کسی مقدس وجود کی اقتداء کا موقع نصیب ہوا اور نماز بہ قرآت جہر ہو رہی ہو تو بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے ہر ہر لفظ سے نور کی شعاعیں نکل نکل کر میرے قلب پر مستولی ہو رہی ہیں اور اس وقت ایک عجیب نورانی کے اور سرور بخش منظر محسوس ہوتا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک ممبر سے فائدہ نہ اٹھانے دیا ہمیں ۱۹۵۱ء کی مجلس مشاورت سے پہلے ایک موزوں کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے میری زبان پر جاری ہوا کہ ممبر سے فائدہ نہ اٹھانے دیا ہمیں۔میں نے اس کلام سے مکرمی میاں شمس الدین صاحب امیر جماعت احمد یہ پشاور کو اور گھر کے افراد کو اطلاع دے دی۔اس وقت تو اس کا مفہوم کے سمجھ میں نہ آیا۔لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ الہام الیکشن کے متعلق تھا جو ملک میں حکومت کی طرف سے کئے جارہے تھے اور جس میں کئی احمدی بھی بطور امیدوار کھڑے ہوئے تھے لیکن افسوس ہے کہ احراریوں اور دوسرے مخالفین احمدیت کی شدید مخالفت اور مسموم پراپیگنڈہ کی وجہ سے ہمارا کوئی