حیات قدسی — Page 590
۵۹۰ نا جائز قرار دیتے ہیں۔اس حدیث میں چار دفعہ یعنی انتم فيكم - امامكم اور منكم میں خطاب کی ضمیر صحابہ کرام کی طرف راجع تھی۔جس کی آپ نے چار دفعہ تاویل کر کے اس سے آئندہ زمانہ کے مسلمان مراد لئے ہیں۔اور اس تاویل کو آپ نے اس لئے جائز قرار دیا کہ صحابہ کرام کی وفات کی وجہ سے ان الفاظ کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جا سکتا اور اس طرح حدیث مجروح ٹھہرتی ہے۔اندر میں صورت اگر ہم احمدی ابن مریم کے لفظ کو ظاہر پر محمول نہ کریں اور آنے والے مسیح کو امت محمدیہ کا ایک فرد سمجھیں۔کیونکہ قرآنی آیات سے اور دوسری احادیث سے حضرت مسیح ابن مریم کی وفات نصوص پینہ سے ثابت شدہ ہے تو اس ایک تاویل پر آپ کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔اس موقع پر میں نے کسی قدر تفصیل سے وفات مسیح ابن مریم کے متعلق آیات قرآنی اور احادیث سے استدلال پیش کئے اور بتایا کہ جب قرآن کریم و احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح اسرائیلی فوت شدہ ہیں اور آیت استخلاف کے رو سے جس طرح موسوی خلفاء حضرت موسیٰ کی امت سے پیدا ہوئے اسی طرح امت محمدیہ کے خلفاء بھی اسی امت میں سے پیدا ہوں گے۔اور جس طرح قرآن کریم کی آیت استخلاف میں محمدی خلفاء کو لفظ مِنكُم میں امت محمدیہ کے افراد قرار دیا گیا ہے اسی طرح حديث كيف انتم میں امامکم منکم کے الفاظ فرما کر محمدی مسیح کے نزول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ آنے والا ابن مریم مسیح اسرائیلی ہو گا۔پھر صحیح بخاری میں دو مسیحیوں کے مختلف حلیئے اسی غرض سے بیان کئے گئے ہیں تا کہ مسیح اسرائیلی اور مسیح محمدی میں امتیاز ہو سکے۔ماہرانِ فن انگوٹھے کی باریک لکیروں سے جو بالکل مشابہ ہوتی ہیں مختلف افراد میں امتیاز کر لیتے ہیں تو کیا دونوں مسیحوں کے رنگ اور حلیہ میں جو نمایاں فرق حدیث میں مذکور ہے اس سے کسی کا اشتباہ باقی رہ سکتا ہے۔اندریں حالات جب مولوی صاحب کو صحابہ کرام کی وفات کی وجہ سے حدیث کی چار جگہوں میں تاویل کرنا پڑی تو کیا ہم احمدی بالکل اسی صورت کے پیدا ہونے پر یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی وجہ سے ابن مریم کے ایک لفظ کی صحیح تاویل نہیں کر سکتے ؟