حیات قدسی — Page 554
۵۵۴ معیار بناؤ۔زندگی کے ہر پہلو میں اختیار کرنا ہے۔آج دنیا کی جو حالت ہے وہ کسی صاحب عقل و دانش سے مخفی نہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات اور اخلاق کو اختیار کرنا تو الگ رہا۔خود اس کی ہستی سے ہی انکار کیا جا رہا ہے اور مذہب کی ضرورت اور اس کی شاندا را خلاقی تعلیم کو پس پشت ڈال کر محض اپنے عقلی ڈھکوسلوں کی پیروی پر لوگوں کو کمر بستہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔انسانی فطرت کو جس چیز کی مدتوں سے تلاش تھی یعنی خدا تعالیٰ کی جستجو اور اس کی کامل محبت اور اخلاق کے اعلیٰ معیار کو قائم کرنا۔وہ دنیا سے مفقود ہے۔موجودہ زمانہ کے لوگوں نے صرف اپنی عقلی تجاویز کو ہی اپنی اخلاقی حالت کا معیار قرار دے رکھا ہے اور اس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ بعض بالکل عریاں قسم کی بے حیائی کے کام بھی ان کی عقل کے نزدیک عین شرافت اور تہذیب سمجھے جانے لگے ہیں جیسا کہ یورپ میں نانگوں کی سوسائٹی کا وجود اور ملک کے لئے بغیر نکاح کے اولاد پیدا کرنے والوں کی مدد اور حوصلہ افزائی وغیرہ امور ہیں جنہیں بعض افراد اپنے عقلی ڈھکوسلوں کی بناء پر اعلیٰ درجہ کی تہذیب اور اخلاق قرار دینے لگے ہیں اور پھر بعض حکومتیں جبراً لوگوں کے پسینہ کی کمائی چھین کر ان پر قبضہ رکھنا اسے انتہائی رواداری قرار دینے لگ پڑی ہیں۔غرض جب بڑے اور چھوٹے اس درجہ اخلاقی پستی میں گر چکے ہوں کہ بداخلاقی کو خوش اخلاقی اور ظلم کو انصاف سمجھنے لگ پڑے ہوں تو ایسے زمانہ میں تو مذہب کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔(۲) اس زمانہ میں ہر فرد اور ہر قوم کو اس بات کی تو ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کاش دنیا میں انسانی زندگی قومی ہو یا انفرادی امن اور آرام سے گزرے۔لیکن مذہب کی منکر اور محض عقل کو رہنما بنانے والی قو میں آج دیکھ رہی ہیں کہ ان کی عقل نے قوموں کی قومیں ہلاک اور ملکوں کے ملک ویران اور بحر و بر کی آبادیوں اور شہروں کو کھنڈرات بنا دیا ہے اور جب کوئی مغلوب حکومت صلح کے لئے ہاتھ بڑھاتی ہے تو غالب اور جابر حکومتیں غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر اسے مجبور کرنے لگ پڑتی ہیں مگر وہ اتنا نہیں سوچتیں کہ اگر وہ خود مغلوب ہو تیں تو یقیناً غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کی بجائے شرائط والی صلح پسند کرتیں۔اگر انقلاب زمانہ نے آج ایک قوم کو مغلوب کر دیا ہے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ دوسرے وقت میں یہی مغلوب قوم غالب آجائے اور جو آج غالب ہیں وہ مغلوب ہو جائیں۔بات صرف اتنی ہے کہ گردشِ ایام سے غافل ہونے کے نتیجہ میں وہ نہیں جانتیں کہ نہ رات کا دور دائی ہے