حیات قدسی — Page 509
۳:۔مکن تکیه پر عمر نا پائیدار 32 مباش ایمن از بازی روزگار اسی طرح حضرت امیر خسرو کا شعر ؎ دبدبه زلزلہ خسرویم بلند در گور نظامی نگند 33 بھی حضرت اقدس علیہ السلام کے الہامات میں شامل ہوا۔نیز حضرت نظامی گنجوی کا منظوم کلام سپردم بتو تو دانی حساب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا۔خویش ماية بیش را 84 کم میں نے اوپر کی مثالیں اس لئے تحریر کی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ گذشتہ کلام کو بھی کبھی اپنے الہام میں شامل فرمالیتا ہے اور یہ سنت الہی انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ان کے ماننے والوں کے اور پیروؤں کے ساتھ بھی بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کو اختیار کر لیتا ہے۔چنانچہ خاکسار نے او پر اپنی جس نظم کا ذکر کیا ہے۔اس کے متعلق یہ واقعہ ہوا کہ جب میرے رشتہ داروں اور گاؤں والوں نے میری بیعت کے بعد سخت مخالفت کی اور بار بار یہ اعتراض کیا کہ اگر حضرت مرزا صاحب علیہ السلام امام مہدی اور بچے ہیں۔تو حضرت میاں علم دین صاحب ( جو میرے چچا تھے۔اور جن کے متعلق کئی واقعات پہلی جلدوں میں مرقوم ہو چکے ہیں ) کو خدا تعالیٰ نے کیوں نہیں بتایا۔کیا اس کی اطلاع میاں غلام رسول کو ہی ملنی تھی چنانچہ میں نے قبول حق میں حضرت میاں علم دین صاحب کے وجود کو روک محسوس کرتے ہوئے ان کے لئے متواتر دعا کی۔اور ان سے مختلف مسائل پر گفتگو بھی کرتا رہا۔آخر انہوں نے استخارہ کیا اور اللہ تعالیٰ اور حضرت سیدنا ومولنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی پر آگاہ کیا۔اور انہوں نے بیعت کر لی۔بیعت کے بعد ان کو میری نظم کا تکراری مصرعہ یعنی۔آیا نی آیا مهدی عیسی محمدی آیا الہام ہوا۔جس کا ذکر انہوں نے عام لوگوں میں فرمایا۔اور ان کے بیعت نہ کرنے کی وجہ سے