حیات قدسی — Page 506
اس کلام الہی سے جب مُحبّی فی اللہ کے الفاظ کے مستحق اشخاص کو بھی اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہے تو حتى فِی اللہ کے مستحقین کے لئے درجہ اولیٰ معیت کا استحقاق ہے۔اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اس معیت خاصہ کی برکات مختصہ سے علاوہ جماعت کے مخلصین محبین کے اس خاکپائے مقدسین کو بھی نوازے۔شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام یہ بھی ہے۔کہ الْأَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُوَ مَعِی 20 یعنی زمین اور آسمان اسی طرح تیری معیت میں ہیں۔جس طرح وہ میرے ساتھ ہیں۔اس الہام کو جب اس سے پہلے ذکر کردہ الہام کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے صادق محبین کے لئے بہت ہی عظیم الشان مژدہ نظر آتا ہے گویا آسمان اور زمین کی نصرتیں اور برکتیں اور فیوض وخزائن جس طرح اللہ تعالیٰ کی معیت میں ہیں۔اسی طرح حضرت اقدس علیہ السلام ، آپ کے مقدس اہل بیت اور آپ کے محبین کے ساتھ وابستہ ہیں۔موجودہ دور میں محبان حضرت مسیح الاسلام کے لئے یہ عظیم الشان مژدہ ہے جس پر جتنا بھی اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لایا جائے کم ہے۔اس الہام میں محبوں کا نمبر تیسرا رکھا گیا ہے۔اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ معیت دراصل وہی ہے جو دلی خلوص اور محبت کے تعلق سے ہو۔ورنہ ایک دشمن بھی ظاہری اعتبار سے معیت اختیار کر سکتا ہے۔اور پہلو نشین ہو سکتا ہے۔لیکن یہ نفس امارہ کی معیت بجائے نفع رساں ہونے کے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔اصل معیت محبت کے تعلق پر موقوف ہے خواہ محبت محبوب سے بظاہر ہزاروں کوس دور ہو۔پھر بھی قریب ہی محسوس ہوتا ہے۔اور ہر وقت اپنے محبوب کے رنگ میں رنگین اور اس کی محبت کے نشہ میں سرشار رہتا ہے دین عاشق دین معشوق است عشق خالق دین مخلوق است بس و بس