حیات قدسی — Page 505
کرشن جی مہاراج کے بروز اور مثیل بھی وہی کام کر رہے ہیں۔جو کرشن جی خود کیا کرتے تھے۔اور ان کے ذریعہ سے پر ماتما کا سچا دھرم دنیا میں قائم ہو رہا ہے۔اور پاپ اور دھرم مٹ رہے ہیں۔یہ تقریر خدا تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت سے بہت مقبول ہوئی اور حاضرین نے دوران تقریر میں بار بار چیئر ز دیئے اور مسرت کا اظہار کیا۔اور وہ لوگ جو میری سادہ وضع اور لباس کو دیکھ کر مایوسی کا اظہار کر رہے تھے۔احمد یہ جماعت کے ایک حقیر خادم کی کامیاب تقریر سے حیرت میں آگئے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ایک مژدہ بعض اوقات ایک معمولی سی بات بہت بڑے فضل کا موجب بن جاتی ہے۔۱۹۲۰ء میں خاکسار لاہور سے مرکز مقدس میں سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں اپنے ساتھ مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین کا ایک ٹریکٹ بھی لے آیا۔جو ان کو دنوں تازہ شائع ہوا تھا۔اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ اب اس ٹریکٹ کا جواب بھی طبع ہونے پر لے جائیں اور مولوی محمد علی صاحب کو پہنچا دیں۔چنانچہ حضور نے اس ٹریکٹ کے جواب میں اپنی گراں قدر کتاب حقیقۃ النبوة، تصنیف فرمائی اور طبع کروا کر مجھے مولوی محمد علی صاحب کو پہنچانے کے لئے دی۔اس کتاب کو جب خاکسار نے کھول کر دیکھا تو صفحہ نمبر ۹ پر اس عاجز حقیر خادم کا نام بھی ٹریکٹ لانے کے متعلق مذکور تھا۔اور حضور نے از راہ نوازش کریمانہ خاکسار کے نام کے ساتھ "حبی فی الله" کے الفاظ تحریر فرمائے تھے۔اس عاجز کے لئے تو مُحِنِّي في الله “ کے الفاظ بھی حد درجہ کی مسرت اور عزت کا باعث تھے۔لیکن جب میں نے کا حتي في الله کے الفاظ اپنے نام کے ساتھ لکھے ہوئے دیکھے تو میرے قلب نے انتہائی خوشی اور مسرت محسوس کی۔اور اب تک میں ان الفاظ کو خوشی اور مسرت کا موجب سمجھتا ہوں۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے کہا۔إِنِّي مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِكَ وَكُلَّ مَنْ أَحَبَّكَ یعنی میری معیت تجھے حاصل ہے اور تیرے اہل کو حاصل ہے اور اس خوش نصیب شخص کو بھی حاصل ہے جو تیرے ساتھ محبت رکھتا ہے۔