حیات قدسی — Page 503
۵۰۳ وصال کے طالب ہیں اس کی آواز کو سن کر اس کی طرف چلے آئیں۔اور ہجر اور جدائی کی تکلیف سے بچ جائیں۔کرشن جی مہاراج کی گوپیوں کے متعلق میں نے یہ بیان کیا کہ یہ اعتراض بھی سطحی خیال کے لوگ کرتے ہیں کہ کرشن جی مہاراج نے بڑی تعداد میں گو پیاں رکھی ہوئی تھیں۔حالانکہ یہ استعارہ کی زبان ہے۔ہر نبی اور پیشوا اپنے ماننے والوں پر اثر ڈالتا ہے۔اور اس کی جماعت کے افراد اس کا اثر قبول کرتے ہیں۔اور اس افاضہ اور استفاضہ کو استعارہ کی زبان میں مختلف الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام کی جماعت کو دُنبیاں قرار دیا گیا ہے۔اور حضرت کا مسیح کو انجیل میں خدا کا بڑہ اور قوم اسرائیل کو اس کی بھیڑیں کہا گیا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ تحریم میں استعارہ شوہر کی مثال سے اور تمام مومنوں کو عورتوں کے کی مثال سے ذکر کیا گیا ہے۔پس گو پیاں آپ کے مخلص مومنین ہی تھے۔جو ہر دم آپ کے نور و برکت سے استفادہ کر رہے تھے۔اور یہ واقعہ جو سری کرشن جی کے سوانح میں مذکور ہے کہ آپ گوپیوں کے نہاتے وقت ان کے کپڑے اٹھا کر درخت پر چڑھ گئے اس میں ایک عارفانہ حقیقت بیان کی گئی ہے۔کرشن جی نے اپنے مریدوں کو یہ سمجھایا کہ تمہارا اصل لباس جس سے گناہوں کو ڈھانپا جا سکتا ہے۔وہ تقویٰ اور نیکی کا لباس ہے جو آسمان سے خدا تعالیٰ کے اوتار کے ذریعہ سے نازل ہوتا ہے خود بخود تمہارے لئے ممکن نہیں کہ تم اس کو حاصل اور اختیار کر سکو۔قرآن کریم میں بھی لباس التقوی کا محاورہ استعمال کیا گیا ہے۔اور ذَالِكَ خَیر کے الفاظ میں اس کی خوبی کا اظہار کیا گیا ہے۔اور اس واقعہ میں پانی میں نہانے کا جو ذکر ہے اس میں یہ حقیقت ہے کہ جس طرح پانی بدن کی ظاہری میل کچیل کو صاف کرتا ہے۔اس طرح روحانی پانی یعنی کلام الہی اور وحی آسمانی قلوب اور باطنی کدورت کو پاک وصاف کرتی ہے۔اور یہ پانی خدا کے اوتار یعنی نبی کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔گویا اس واقعہ کے ذریعہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ گنا ہوں کو ڈھانکنے والا لباس تقویٰ اور گناہوں سے پاک کرنے والا آب حیات دونوں خدا تعالیٰ کے اوتاروں کے ذریعہ ملتے ہیں۔