حیات قدسی

by Other Authors

Page 442 of 688

حیات قدسی — Page 442

۴۴۲ ومن جرثومة الساداتِ نَسُلا وال محمد محبوب خلاق و كل منهما قد مات شابا و موت الشاب فاجعة لآفاق لقد فزعت قلوب عند نعي وقد فجعت نفوس بعد اطـراق بِحُزن القلب تدمع كل عين ولوعة فرقة نار لأحراق ہمارا محبوب اسی طرح جب حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ قادیان میں شدید طور پر علیل ہوئے تو میں ان دنوں پشاور میں مقیم تھا۔ان کی علالت کی اطلاع ملنے پر میں نے متواتر دعا کی۔اور کئی دن تک جاری رکھی۔آخر مجھے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں مخاطب فرمایا۔میر محمد اسمعیل ہمارا محبوب ہے ہم خود اس کا علاج ہیں“ اس کے چند روز بعد حضرت میر صاحب وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وانا اليه راجعون۔اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کی آل اولاد پر اپنی رحمت اور فضل تا ابد نازل فرما تا ر ہے۔آمین۔آپ کی وفات پر میں نے فارسی زبان میں ایک مرثیہ لکھا جس میں اپنے جذبات غم اور آپ کے مناقب جلیلہ کا ذکر کیا۔هیچی مرگ (کشمیر) میں ۱۹۴۱ء میں میں اور عزیز مکرم مولوی محمد الدین صاحب مبلغ البانیہ تبلیغ کی غرض سے علاقہ کشمیر میں گئے۔سرینگر میں حضرت مسیح اسرائیلی علیہ السلام کے روضہ مبارک واقع محلہ خان یار کی زیارت اور اس پر دعا کی توفیق ملی۔نیز بہت سے تبلیغی جلسوں میں شمولیت اور تربیتی اور اصلاحی امور کی سرانجام دہی کا بفضلہ تعالیٰ موقع ملا۔اسی سلسلہ میں جب ہم لہر دن پہنچے تو وہاں پر حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے بھائی سید محمد علی شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ایک دن آپ نے سیدنا ومولنا حضرت خلیفة المسیح اول حکیم الامتہ مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق سنایا کہ جب حضور مہا راجہ کشمیر کے شاہی طبیب تھے تو ایک دفعہ مہاراجہ صاحب کے ساتھ سرینگر تشریف لائے۔آپ کی شہرت سن کر دور دور سے لوگ آپ کی ملاقات اور علاج کرانے کے لئے حاضر ہوتے۔میں