حیات قدسی — Page 377
انہوں نے خلافت حقہ کو گڑی قرار دے کر بعض باغیانہ خیالات کا اظہار کیا۔ایک دفعہ جب وہ ریاست بہاولپور میں جہاں ان کی اراضی تھی اس کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لئے گئے تو وہاں سے واپسی پر انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ دوران سفر میں میں نے بہت سے منذر رویا دیکھے۔جن میں مجھے بار بار تنبیہ ہوئی کہ میں میاں محمود احمد صاحب کی مخالفت نہ کروں۔پھر انہوں نے مجھے اپنا ایک خواب سنایا کہ میں نے دیکھا کہ ایک گاڑی اپنی لائن پر نہایت سرعت اور عمدگی سے چلی جارہی ہے۔اس وقت میں اس گاڑی کو دیکھ کر تعجب کر رہا ہوں کہ اس گاڑی کا ڈرائیورکون ہے۔تو مجھے بتایا گیا کہ اس کے ڈرائیور میاں محمود احمد صاحب ہیں۔پھر مجھے الہام ہوا۔وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبُر - اور مجھے اس کا مطلب یہ سمجھایا گیا کہ جو لوگ مرزا محمود احمد کی گاڑی پر سوار ہوں گے۔وہی ایمان و عمل صالح والے ہوں گے۔اور جو ان کی معیت اختیار نہ کریں گے۔وہ خسران اور گھاٹا پانے والے کے ہوں گے۔یہ خواب اور الہام سنانے کے بعد مجھے کہنے لگے کہ آپ گواہ رہیں کہ میں آئندہ میاں محمود احمد صاحب کی مخالفت نہ کروں گا۔چنانچہ اسی اثر کے ماتحت انہوں نے اخبار پیغام صلح میں یہ اعلان بھی کرایا کہ بعض احباب ہمارے متعلق یہ بدظنی رکھتے ہیں کہ گویا ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درجہ کم کرتے ہیں، یہ درست نہیں۔ہم لوگ جن کا پیغام صلح سے تعلق ہے آپ کو خدا تعالیٰ کا نبی اور نجات دہندہ یقین کرتے ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ باوجود ایسے اعلانات کے کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر صاحب ان سب تنبیہات اور منذ رخوابوں کو بھول گئے۔اور حضرت سیدنا امحمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور عداوت میں بڑھتے ہی چلے گئے۔تا آنکہ ان کا خاتمہ خسران اور گھاٹے کی حالت میں ہو گیا۔انہی دنوں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے جو خطوط میر حامد شاہ صاحب کو سیالکوٹ میں لکھے۔ان میں آداب خلافت کو قطعاً ملحوظ نہ رکھا اور حضرت خلیفۃ المسیح اول کے خلاف تکبر وغیرہ کے الفاظ بھی استعمال کئے۔میں نے جب ان کے متعلق ذکر کیا تو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے میرے خلاف اخبار پیغام صلح میں ایک بہتان کی