حیات قدسی

by Other Authors

Page 374 of 688

حیات قدسی — Page 374

۳۷۴ شائع فرمایا تو ایک دن حضرت مدروغ نے خاکسار خادم کو جب کہ میں حضور کے قدموں میں بیٹھا ہوا تھا۔اپنا تر جمہ جو پہلے پارہ تک طبع ہو چکا تھا۔دے کر فرمایا کہ اسے بنظر غور پڑھیں۔اور اگر کوئی قابل اصلاح بات معلوم ہو تو اسے حاشیہ پر یا علیحدہ کا غذ پر لکھ کر مجھے دکھا ئیں۔چنانچہ میں نے حضور کے ارشاد کے ماتحت اس مطبوعہ پارہ کو غور سے پڑھا۔جب میں اس آیت پر پہنچا۔کہ وَإِذْ قَتَلْتُمُ نَفْسًا تو حاشیہ پر حضور کی طرف سے یہ نوٹ تحریر پایا۔کہ ” مجھے اس آیت کے معنے سمجھ میں نہیں آسکے۔میں اس نوٹ کو دیکھ کر دیر تک محو حیرت رہا۔اور مجھے خیال آیا کہ عام طور پر کوئی معمولی عالم بھی اپنے متعلق ایسا نوٹ شائع نہیں کرتا۔یقیناً سیدنا نور الدین جیسے بحر ذخار کا ایسا نوٹ شائع کرنا مسیح پاک علیہ السلام کی انکسار آفرین صحبتوں کا نتیجہ ہے۔ایک اور واقعہ اسی طرح ایک دفعہ جب حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے پر سے گرنے کی وجہ سے صاحب فراش تھے۔اور مکان پر ہی درس القرآن کا سلسلہ جاری تھا۔ایک دن جب آیت وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمُنَا كُلَّ ذِي ظُفُر 65 کی تفسیر شروع ہوئی تو حضور نے سب حاضرین کے سامنے جن میں بہت سے علماء بھی شامل تھے فرمایا کہ اس آیت کے متعلق کوئی صاحب مجھ سے دریافت نہ کریں۔کیونکہ اس کے مطلب کے متعلق مجھے شرح صدر نہیں۔حضرت کے اس بیان سے میرے قلب پر حضور کے انکسار کا بہت گہرا اثر ہوا۔اور مجھے حضرت امام ابوحنیفہ عنہ کی لا ادریاں یاد آ گئیں کہ جب آپ سے بعض امور کے متعلق دریافت کیا جا تا کہ ان کی کیا حقیقت ہے تو آپ "لا آذری یعنی میں نہیں جانتا فرماتے۔کسی نے آپ سے کہا کہ پھر آپ امام کیسے ہیں۔کہ لَا اَدْرِى۔لَا اَدْرِئ کہے جاتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں امام اس بات کا ہوں کہ جس بات کا مجھے علم ہوتا ہے اس کو بیان کر دیتا ہوں۔اور جس بات کا مجھے علم نہیں ہوتا۔میں اس کے متعلق کا اذری کہتے ہوئے اپنی ہتک نہیں سمجھتا۔