حیات قدسی — Page 367
زیادہ عبور ہو مقابلہ کر لیں۔لیکن خدا کے فضل سے سلسلہ حقہ کا ایسا رعب قائم ہوا کہ کوئی عالم مقابلہ کے لئے نہ آسکا۔غیر منقوطہ قصیدہ کے ابتدائی شعر یہ ہیں۔یہ قصیدہ عربی رسالہ ”البشری میں بھی شائع ہو چکا ہے۔الا لاح امر الله وعدا مؤكدا له حل موعود و أرسل موعدا امام همام مصلح و معلم رسول وما مور وداع الى الهدا ولاح لاهل العصر طوسا مطهما واكرمه المولى علوا و سوددا سہارنپور میں الثانی خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے ہندوستان کے طول و عرض میں تبلیغی خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا ہے۔اسی سلسلہ میں سہارن پور (یو پی) میں بھی کئی بار جانے کا موقع ملا ہے۔۱۹۴۵ء میں جناب نواب عادل خاں صاحب رئیس شہر کی درخواست پر حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خاکسار کو وہاں بھجوایا۔وہاں پر علماء سے کئی مقابلے ہوئے۔مندرجہ ذیل مطبوعہ اشتہار ( جو انفاق سے دستیاب ہو گیا ہے ) وہاں کے ایک عالم جناب ہلالی صاحب کے چیلنج کے جواب میں لکھا گیا۔ہلالی صاحب اس کے بعد مقابل پر نہ آئے۔(نقل مطابق اصل بجواب چیلنج ہلالی صاحب) ہلالی صاحب کا چیلنج مناظرہ منظور ب القدم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم ان كنت از معت النضال فاننا نأتي كما يأتي لصيد ضيغم اگر تو نے مقابلہ میں آنے کی ٹھانی ہے تو ہم بھی مقابلہ کے لئے ایسے آئیں گے جیسے شیر شکار کے لئے ہلالی صاحب نے اپنے ٹریکٹ میں مجھے ایک چیلنج دیا ہے۔جس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:۔” وہ تقریری مناظرہ کے لئے بھی تیار ہو جا ئیں۔تاکہ مبلغ علم کا پتہ خوب ہو جائے۔“ میری طرف سے اس کا جواب یہی ہے کہ تحریری اور تقریری دونوں طرح کا مناظرہ ہو جائے۔یعنی جو کچھ پہلے تحریری صورت میں مناظرہ ہو۔اسی تحریری مناظرہ کو بعد میں مجمع میں سنا دیا جائے۔تو یہ صورت