حیات قدسی

by Other Authors

Page 347 of 688

حیات قدسی — Page 347

۳۴۷ مولوی آزاد سبحانی سے ملاقات کانپور میں مولوی آزاد سبحانی صاحب مدرسہ الہیات کے انچارج تھے۔ہم ان کی ملاقات کے لئے مدرسہ مذکور میں گئے۔وہ اس وقت پندرہ بیس کے قریب طلباء کو پڑھا رہے تھے۔ہمیں دیکھ کر دریافت فرمایا کہ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں۔ہمارے بتانے پر انہوں نے آنے کی غرض پوچھی۔میں نے عرض کیا کہ مدعی رسالت و نبوت کو قرآن کریم کی پیش کردہ تعلیم کی رو سے ایک محقق انسان کس طرح شناخت کر سکتا ہے؟ آپ نے جواباً فرمایا کہ نبی اور رسول طبیب کی طرح ہوتے ہیں جو لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔وہ ان سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔اور دوسرے محروم ہو جاتے ہیں۔پھر کہنے لگے کہ آپ کل صبح سات بجے مجھے میرے مکان پر ملیں۔دوسرے دن جب ہم ان کے مکان پر حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ بریلی جانے کے لئے اسٹیشن پر جا چکے ہیں۔جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو معذرت کرنے لگے کہ اب میں جا رہا ہوں۔میرے پاس وقت نہیں۔مالا بارکوروانگی کانپور میں ہفتہ عشرہ قیام کرنے کے بعد ہم بمبئی پہنچے۔اور وہاں سے بذریعہ جہاز بندرگاہ منگلور کی طرف روانہ ہوئے۔بمبئی سے ہمارے ایک ہم سفر قوی ہیکل جوان تھے۔وہ پہلی دفعہ سمندری سفر اختیار کرنے کی وجہ سے گھبرا رہے تھے۔جب دوسرا دن ہوا تو وہ ہر طرف پانی ہی پانی دیکھ کر حد سے زیادہ دہشت زدہ ہو گئے اور لحظہ بہ لحظہ ان کی حالت خراب ہوتی گئی۔دو دن کے بعد سورج غروب ہوتے ہی ان کی زندگی کی شمع ہمیشہ کے لئے بجھ گئی۔ان کی لاش کو جہاز کے کپتان نے تین چار پتھروں کے سے باندھ کر نیچے سمندر میں پھینک دیا۔اس حسرتناک اور جواں مرگ وفات سے سب ہمسفر بہت ہی افسردہ ہوئے۔کشتی طوفان میں چار دن سمندری سفر میں گزارنے کے بعد جب ساحل مالا بار ایک دو میل کے فاصلہ پر رہ گیا تو