حیات قدسی

by Other Authors

Page 319 of 688

حیات قدسی — Page 319

۳۱۹ کہ میں نے نفع یا نقصان کی وجہ سے الحمد للہ نہیں پڑھا بلکہ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر اس لئے ادا کیا ہے۔کہ نفع کی اطلاع پر بوجہ مالی و دنیوی فائدہ کے میرا قلب مسرور نہیں ہوا۔اور نہ ہی نقصان کی خبر سے مجھے کوئی رنج پہنچا ہے۔دنیوی نفع اور نقصان میرے اس تعلق پر اثر انداز نہیں ہو سکا جو مجھے خدا تعالیٰ سے ہے۔یہ حالت جو مجھے نصیب ہے میرے منہ سے دونوں بار الحمد للہ کا کلمہ نکلوانے کا باعث بنی۔یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی صحبت سے اللہ تعالیٰ نے میرے قلب میں بھی ایسی روحانی کیفیت پیدا کر دی کہ جب میں لکھ پتی تھا۔اس وقت بھی ایک استغنا کی کیفیت میسر تھی۔اور اب اس عسرت کی حالت میں بھی غیر اللہ سے مستغنی ہوں۔جب حضرت سیٹھ صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو ہمارے قلوب اس سے بہت متاثر ہوئے۔اور ا آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔بنگال کا تبلیغی سفر حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاه برفع درجاتہ فی الجنۃ العلیاء کے دور خلافت میں غالبا ۱۹۱۲ء کی بات ہے کہ جناب مولوی عبدالواحد صاحب ساکن برہمن بڑیہ (بنگال) نے علماء کا ایک وفد بغرض تبلیغ بھجوانے کی درخواست کی۔چنانچہ حضور کی طرف سے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت میر قاسم علی صاحب، جناب مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی مرحوم اور خاکسار کو جانے کا ارشاد ہوا۔ہم سب کلکتہ سے ہوتے ہوئے برہمن بڑ یہ پہنچے۔کلکتہ میں جماعت کی طرف سے ایک بڑی سرائے میں ہمارے قیام کا انتظام تھا۔جب ہم وہاں پہنچے تو محکمہ پولیس کے ایک افسر بھی اسی سرائے میں کسی سندھی پیر کی تلاش میں جس کے ساتھ وہ عقیدت رکھتے تھے آگئے۔چونکہ وہ تصوف کے ساتھ دلچسپی رکھتے تھے اور علم دوست آدمی تھے۔اس لئے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب امیر وفد کے ایما پر میں نے ان کے ساتھ تصوف کے متعلق گفتگو شروع کی اور تقریباً آدھ گھنٹہ تک سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے ماتحت تصوف کے بعض نکات پر روشنی ڈالی۔میری باتیں سن کر وہ بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے ایسی عارفانہ باتیں اس سے قبل کبھی نہیں سنیں۔اس کے بعد وہ پیر صاحب کی تلاش میں چلے گئے۔کچھ