حیات قدسی

by Other Authors

Page 304 of 688

حیات قدسی — Page 304

۳۰۴ جب پادری غلام مسیح کا لیکچر ختم ہوا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری۔مولوی محمد ابراہیم صاحب وکیل لاہوری اور بعض دوسرے علماء جنہوں نے نام لکھوائے۔تھے۔باری باری کھڑے ہوئے لیکن ان علماء نے پادری صاحب کے مطالبہ کے مطابق اپنے جوابات قرآن کریم سے نہ دیئے۔بلکہ توریت اور انجیل کی عبارات پڑھ پڑھ کر اپنا وقت ختم کر دیا۔ان میں سے ہر ایک کی تقریر کے متعلق پادری صاحب اٹھ کر کہہ دیتے کہ میرے مطالبہ کے مطابق قرآنی آیات کے ذریعہ سے کچھ نہیں کہا گیا۔میرا یہ دعویٰ ہے کہ از روئے قرآن کریم حضرت مسیح کی فضیلت سب انبیاء پر ثابت ہوتی ہے۔اگر یہ فضائل جو میں نے مسیح کے متعلق قرآن سے پیش کئے ہیں کسی اور نبی میں قرآن کے رُو سے پائے جاتے تو علماء ان کو ضرور پیش کرتے لیکن ان کا ایسا نہ کرنا مسیح کی فضیلت بر ہمہ انبیاء ثابت کرتا ہے۔چنانچہ پادری صاحب نے بار بار مسلمانوں اور ان کے علماء کی اس کمزوری کو واضح کیا اور ان کو شرم دلائی۔اسی اثنا میں آخر میں صاحب صدر نے میرا نام بھی لیا۔میں حیران تھا کہ میں نے تو اپنا نام پیش نہیں کیا میرا نام کس نے لکھا دیا۔میرے مکرم دوست ملک خدا بخش صاحب مرحوم و مغفور نے جو قریب ہی بیٹھے تھے ، بتایا کہ میں نے آپ کا نام لکھ کر بھجوا دیا تھا۔جو نہی میں سٹیج کی طرف بڑھا تو بہت سے غیر احمدی علماء میرے اردگر دیگھیرا ڈال کر کھڑے ہو گئے۔اور میری وضع اور لباس کی سادگی دیکھ کر مجھے حقارت سے کہنے لگے کہ تم نے سٹیج پر جا کر کیا بولنا ہے۔اپنا وقت ہمیں دے دو۔میں نے عرض کیا کہ دوسرے علماء جواب تک بولتے رہے ہیں وہ آپ کے بڑے بھائی اور آپ کو سے بڑھ کر تھے۔انہوں نے کیا کر لیا ہے جو آپ کر سکیں گے۔جس وقت ان علماء کے ساتھ میری تکرار ہو رہی تھی تو صاحب صدر نے خیال کیا کہ اس شخص کا بولنا ہمارے لئے اور بھی مفید ہو گا۔چنانچہ اس کا نے اونچی آواز سے دوبارہ میرا نام پکارا اور سٹیج پر بلایا۔میرے جواب کا خلاصہ میں جب سٹیج پر کھڑا ہوا تو میری وضع اور لباس دیکھ کر لوگوں نے مجھے جبہ پوش علماء کے مقابل پر بہت ہی حقیر خیال کیا اور سمجھا کہ اس آخری تقریر سے اسلام کی اور بھی رسوائی ہو گی۔اور بہت سے مسلمان مرتد ہو جائیں گے۔