حیات قدسی — Page 267
کی حالت تجھ پر مخفی نہیں تو خود ہی ان کا کفیل ہو اور ان کی حاجت روائی فرما۔تیرا یہ عبد حقیران افسردہ دلوں اور حاجت مندوں کے لئے راحت و مسرت کا کوئی سامان مہیا نہیں کر سکتا۔“ میں دعا کرتا ہوا ابھی بیرونی دروازہ تک نہ پہنچا تھا کہ باہر سے کسی نے دروازہ پر دستک دی۔جب میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو ایک صاحب کھڑے تھے۔انہوں نے کہا کہ فلاں شخص نے ابھی ابھی مجھے بلا کر مبلغ یکصد روپیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آپ کے ہاتھ میں دے کر عرض کیا جائے کہ اس کے دینے والے کے نام کا کسی سے ذکر نہ کریں۔میں نے وہ روپیہ لے کر انہی صاحب کو اپنے ساتھ لیا اور کہا کہ میں تو اب گھر سے تبلیغی سفر کے لئے نکل پڑا ہوں۔بازار سے ضروری سامان خوردونوش لینا ہے وہ آپ میرے گھر پہنچا دیں۔کیونکہ میرا اب دوبارہ گھر میں واپس جانا مناسب نہیں۔وہ صاحب بخوشی میرے ساتھ بازار گئے۔میں نے ضروری سامان خرید کر ان کو گھر لے جانے کے لئے دیدیا۔اور بقیہ رقم متفرق ضروریات کے لئے ان کے ہاتھ گھر بھجوادی۔فالحمد للہ علی ذالک قادیان میں مکان کی تعمیر ۱۹۱۹ء کے جلسہ سالانہ پر میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میں سیدنا حضرت خليفةالمسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں قادیان میں مکان بنانے کی توفیق پانے کے واسطے دعا کے لئے عرض کروں۔گو بظاہر میرے مالی حالات کے پیش نظر ایسا ہونا میری استطاعت سے باہر تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی بات انہونی نہ تھی۔چنانچہ میں نے حضور کی خدمت میں دعا کے لئے عریضہ لکھا۔اس خط کے لکھنے کے بعد میں نے رویا میں دیکھا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ نے اپنے پر بچھا کر فرمایا کہ اپنے گھر کے سب افراد لا کر اس پر بٹھا دیں۔جب ہم سب گھر والے اس پر پر بیٹھ گئے تو آپ نے پرواز کرنا شروع کی۔اور قادیان کے محلہ دار الرحمت میں جہاں اس وقت ہمارا مکان بنا ہوا ہے لا کر ہمیں اتارا۔اس رؤیا سے مجھے اس مقصد میں کامیابی حاصل ہونے کی امید ہو گئی۔اس کے بعد ۱۹۲۰ء کے جلسہ سالانہ پر میں نے پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعا کے لئے زبانی عرض کیا۔حضور نے دعا کرنے کا وعدہ فرمایا۔ابھی میں جلسہ کے بعد قادیان میں ہی مقیم تھا کہ ایک شخص نے جن کا نام