حیات قدسی — Page 251
۲۵۱ جانب ان کے مقابل پر ایک مینڈھا ہے۔وہ مینڈھا مشرقی جانب کے درختوں میں نظر آتا ہے اور اونٹ مغربی جانب کے درختوں میں نظر آتے ہیں۔پھر میں نے دیکھا کہ آناً فاناً ایک تغیر رونما ہوا اور وہ اونٹ جو فربہ اور کیم وسیم تھے دبلے اور کمزور ہونے شروع ہوئے یہاں تک کہ بالکل ڈھانچہ اور مشت استخواں رہ گئے ان کے مقابل پر مینڈھا اپنے قدوقامت اور ہیئت میں بڑھنا شروع ہوا یہاں تک کہ ان درختوں کی چوٹی تک پہنچ گیا اور پھر اس نے اپنا سر ان درختوں کے اوپر سے ایسے طور سے نکالا کہ ساری دنیا کی توجہ اس کی طرف ہو گئی اور لوگ حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ اتنا عظیم الشان اور بلند وقوی مینڈھا تو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا اس نظارہ میں مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ یہ مینڈھا بیک وقت سب دنیا میں نظر آ رہا ہے اور تمام دنیا جو اس مینڈھے کو دیکھ رہی ہے مجھے بھی نظر آ رہی ہے۔کشفی نظارہ کی تعبیر بعد میں اس کشفی نظارہ کی تعبیر مجھ پر یہ کھلی کہ یہ سڑک دنیا ہے اور درخت جو اس کے دونوں جانب ہیں وہ اہل حق و باطل کے باہمی جھگڑے اور مذہبی مناظرات ہیں اور سڑک کی مشرقی جانب جو مینڈھا ہے وہ ہمارے آقا سید نا المحمو د ایدہ اللہ تعالیٰ ہیں اور غربی جانب جو اونٹ ہیں یہ اہل باطل ہیں۔جن کو خدا تعالیٰ سید نا الحمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی قوت قدسیہ اور جہاد عظیم کی برکت سے کمزور اور کم کرتا چلا جائے گا۔اور جب مذہبی جھگڑے انفصال پائیں گے تو حضرت سید نا محمود اور آپ کی جماعت کا مقام اور درجہ اور بھی بلند نظر آئے گا۔آپ کی شہرت اور نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔اور آپ کے ذریعہ سے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام اہل نظر مقام محمود پر جلوہ گر ہوتے دیکھیں گے۔وَالزَّمَانُ قَرِيبٌ بَلْ أَقْرَبُ وَ رَبُّنَا بِقُدْرَتِهِ العَظِيمَةِ عَجِيْبٌ بَلْ أَعْجَبُ لَهُ الْحَمْدُ وَالْمَجُدُ كُلُّه - سترھویں صدی ہجری میں ۱۹۰۹ء میں خاکسار ایک وفد کی صورت میں میرٹھ شہر میں نوچندی کے میلہ کی تقریب پر بغرض تبلیغ گیا۔وہاں پر میں نے بہت ہی مبشر ردیا دیکھی۔میں نے دیکھا کہ میں اپنے آپ کو سترھویں