حیات قدسی — Page 224
۲۲۴ یونس نبی کی دعا ایک دفعہ میں قصور شہر میں ایک تبلیغی جلسہ کی تقریب پر گیا۔وہاں ایک دوست نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں ان دنوں مشکلات اور مصائب میں گھرا ہوا تھا۔اس لئے میں نے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور درخواست دعا کی اور یہ بھی عرض کیا کہ دعا کے طور پر کوئی وظیفہ بھی بتایا جائے۔جسے میں پڑھا کروں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ آپ آیت كريم لا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ 17 کثرت سے پڑھا کریں اور اس کا وظیفہ اس طرح کریں کہ رات کے وقت اگر موسم سرما ہو تو منہ لحاف یا چادر میں ڈھانپ کر یہ آیت شریفہ پڑھیں اور پڑھتے پڑھتے سو جائیں۔اس طرح کے عمل سے انشاء اللہ آپ کی تکالیف دور ہو جائیں گی۔میں نے کہا یہ وظیفہ اس شان کا ہے کہ اگر انسان دریا کے اندر مچھلی کے پیٹ میں بھی مسحوس ہو جائے تو اس ابتلاء سے بھی اللہ تعالیٰ اس دعا کی برکت سے اسے نجات عطا فرما دیتا ہے۔قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں نجات عطا فرمائی۔میرا واقعہ اور یونس نبی علیہ السلام کی تسبیح ایک دفعہ میں سخت بیمار ہو گیا اور میری حالت نازک ہو گئی باوجود ہر طرح کی کوشش کے کوئی علاج کا رگر نہ ہو سکا۔اطباء اور معالجوں نے میرے متعلق پاس آلو د رائے کا اظہار کر دیا۔اس نہایت ہی خطرناک اور نازک حالت میں مجھے الہام ہوا۔یا دایا میکه یونس بوداند ربطن حوت میں نے اس الہام کے متعلق کئی بزرگ ہستیوں سے مطلب دریافت کیا۔لیکن کوئی توجیہ تسلی بخش نہ ہو سکی تب میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس کی تفہیم کے لئے توجہ کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے سمجھایا گیا کہ اس الہام کا یہ مطلب ہے کہ جو شخص کسی ایسے سخت ابتلاء میں پھنس جائے جس سے بظاہر حالات نجات پانا نہایت دشوار ہو ( جیسے حضرت یونس علیہ السلام کے وہ ایام تھے جو آپ کو و