حیات قدسی

by Other Authors

Page 156 of 688

حیات قدسی — Page 156

۱۵۶ عزت و احترام سے رکھا گیا۔اس پر پادری صاحبان نے حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات پانے اور حضرت مسیح کے صلیبی واقعہ پیش آنے پر آسمان پر چڑھنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غار ثور میں پناہ لینے کا ذکر کیا اور کہا کہ اب مولوی صاحبان بتائیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں کون افضل اور بلند مرتبہ والا ہے؟ ساتھ ہی دونو جوان اور حسین لڑکیاں بھی ان مولوی صاحبان کے سامنے پیش کی گئیں اور کہا گیا ؟ کہ اگر آپ ان دلائل کے پیش نظر مسیحی بننے کے لئے آمادہ ہوں تو یہ خوبصورت لڑکیاں آپ کی رفیقہ حیات بننے کے لئے تیار ہیں۔ان کے علاوہ آپ کو آئندہ زندگی میں فکر معاش سے آزاد و بے فکر کر دیا جائے گا اور آپ کی جملہ ضروریات زندگی بھر مشن کی طرف سے پوری کی جائیں گی۔چنانچہ ان دونوں مولوی صاحبان نے اس سودے کے عوض اسلام کو چھوڑ کر میسحیت اختیار کی اور سیدھے گرجے میں جا کر بپتسمہ لے لیا۔اور پھر مشہور پادری بن کر اسلام کی مخالفت میں تقریریں کرتے اور کتا بیں لکھتے رہے ان میں سے ایک کا نام پادری عمادالدین اور دوسرے کا نام عبد اللہ آتھم ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پادری عماد الدین کے خلاف کتاب نور الحق ہر دو حصے تحریر فرمائی اور ڈپٹی عبداللہ آتھم کے ساتھ امرتسر میں پندرہ دن تک مناظرہ کیا جو جنگ مقدس “ کے نام سے شائع شدہ ہے۔یہ ایک واقعہ بطور مثال کے لکھا گیا ہے ورنہ عیسائیوں کے دجل کے ایسے ہزار ہا واقعات ہوئے حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد حقیقت افروز ہے کہ ” عیسی علیہ السلام کو مرنے دو کیونکہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے“۔کلام قدسی میں کیا بتاؤں میرے مسیحا نے کیا دیا میں کیا تھا اور اس نے مجھے کیا بنا دیا میں مبتلا تھا ظلمت اہواء نفس میں جلوہ دکھا کے نور کا پردہ اُٹھا دیا مجھ پر بھی ایک رات تھی ظلمات جہل کی اس شمس حق نے مجھ کو بھی نور و ضیاء دیا