حیات قدسی — Page 142
۱۴۲ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں اور ایک مکتوب حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی سرساوی رضی اللہ عنہ کا تحریر کردہ ہے یہ ہر دو بزرگان چونکہ سید نا حضرت اقدس کے عہد مبارک میں حضور کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات سرانجام دیتے تھے۔اس لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جوابات انہی کے توسط سے موصول ہوئے۔مکتوب اول مورخہ ۷ / جولائی ۱۸۹۹ ء۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔الحمد لوليه والصلوة والسلام على رسوله و نبیه و آله اما بعد فسلام علیک ورحمة الله وبركاته یا اخي قد تشرف مکتوبك المنظوم لدى مولانا المسيح الموعود ايده الله فَسَرَّ بمطالعته الجناب المذكور غاية السرور واثنى عليك بما اودعت مِن وُدِ واخلاصك۔فيا لقوم لمعرفةِ اِمام زمانهم وَ شَدُّ و علی الایمان به الله بالنواجذفهم قوم رضى عنهم و رضوا عنه وسوف يجعلهم الله فوق الذين أصروا على الانكار وجحدوا بآياته وسلّم مِنا على اخنا المولوى امام الدين۔عبدالکریم ۷ جولائی ۱۸۹۹ء نوٹ۔مذکورہ بالا خط مجھے موضع گولیکی موصول ہوا تھا۔ترجمہ خط۔سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور درود اور سلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر ہو۔اس کے بعد آپ پر سلام اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔اے میرے بھائی ! آپ کا منظوم خط سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچا۔حضور اس کے مطالعہ سے بہت خوش ہوئے۔اور آپ کی محبت اور اخلاص کی وجہ سے آپ کی تعریف کی۔اے وہ قوم جس کو امام زمان کی شناخت اور ایمان کی مضبوطی کی تو فیق ملی۔یہی وہ لوگ ہیں جن سے خدا راضی ہوا اور وہ خدا سے راضی ہو گئے۔اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو ان لوگوں پر غالب کر دے گا جنہوں نے انکار پر اصرار کیا اور خدا تعالیٰ کے نشانوں سے منہ موڑ ا۔ہماری طرف سے ہمارے بھائی