حیات قدسی

by Other Authors

Page 641 of 688

حیات قدسی — Page 641

۶۴۱ طرف سے سول سرجن صاحب گورداسپور کولکھا گیا کہ ہم انچارج شفاخانہ نور کے سرٹیفکیٹ کو کافی نہیں سمجھتے۔آپ معائنہ کر کے رپورٹ کریں اور مجھے بھی اس کی نقل بھجوا کر جلد معائنہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔میری طبیعت پر یہ بوجھ تھا کہ اب رخصت کے آخری دن ہیں اور صحت کافی اچھی ہو چکی ہے۔اگر سول سرجن نے لکھا کہ میں ڈیوٹی دینے کے قابل ہوں۔تو دفتر والے الزام دیں گے کہ پہلا سرٹیفکیٹ غلط تھا۔جس میں اتنے عرصہ کی رخصت کی سفارش تھی اور اگر اس نے کام کے ناقابل بتایا تو افسرانِ بالا جن میں سے ایک میرا سخت مخالف تھا۔لمبی بیماری کی وجہ سے ملازمت سے برخواست کرنے کے لئے قدم اٹھا سکتے تھے۔۔میں نے اپنی اس الجھن کو حضرت والد بزرگوار مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی خدمت میں بیان کیا۔آپ نے فرمایا۔میں دعا کروں گا تم کوئی فکر نہ کرو۔اور گورداسپور جا کر معائنہ کروالو۔چنانچہ میں سائیکل پر نہر کے راستہ گورداسپور روانہ ہوا۔برسات کا موسم تھا اور آسمان پر کہیں کہیں بادل کے ٹکڑے منڈلا رہے تھے۔لیکن میں محفوظ اور بارام گورداسپور پہنچ گیا۔جب میں معائنہ کرا کے واپس لوٹا تو رستہ میں نہر کی پڑی پر بارش کے آثار تھے۔اور بعض نشیبی جگہوں پر پانی بھی کھڑا تھا۔لیکن جہاں سے میں گذر رہا تھا وہاں مطلع صاف تھا۔اور اس طرح خاکسار بسہولت اور بغیر بھیگنے کے واپس لوٹا۔واپسی پر حضرت والد صاحب نے بتایا کہ جب تم سائیکل پر روانہ ہوئے تو کچھ دیر بعد ایک گھنا بادل چھا گیا۔اور بارش شروع ہو گئی۔میں نے تمہاری تکلیف اور بے سروسامانی کا خیال کر کے خدا تعالیٰ کے حضور التجا کی کہ بارش سے برکات احمد بچ جائے اور اس کو کوئی تکلیف نہ ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور تم آرام وسہولت سے واپس آگئے۔فالحمد لله بعد میں دفتر کی الجھن بھی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے دور فرما دی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خدا تعالیٰ کی طرف سے تادیب ۱۹۴۰ء کے قریب کا زمانہ تھا۔حضرت والد ماجد ( مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ) قادیان میں تھے۔سخت سردی کا موسم تھا۔ایک دن آپ کو شدید نزلہ اور بخار کی شکایت ہو گئی۔رات کو ہم سب سوئے ہوئے تھے کہ نصف شب کے قریب آپ نے ہمیں جگایا۔اور فرمایا کہ مجھے شدید پیشاب کی