حیات قدسی — Page 49
۴۹ لوگوں نے اس کرامت کو اپنے خبث باطن اور انتہائی شرارت سے پھر اپنے پیروں کی طرف منسوب کرنا شروع کر دیا اور جابجا حافظ صاحب کا چرچا شروع ہو گیا۔میں نے جب یہ حق پوشی کا مظاہرہ دیکھا تو مجھے بے حد تکلیف ہوئی اور میں نے اپنے چچا صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ یہ کیا معاملہ ہے آپ نے فرمایا کہ میں تو مانتا ہوں کہ یہ آپ کی متحد یا نہ دعاؤں کا نشان ہے مگر یہ جہلاء کا طبقہ احمدیت کے انتہائی بغض و عناد کی وجہ سے اسے حافظ غلام حسین کا کرشمہ اور معجزہ قرار دے رہا ہے۔ایسا ہی میں نے سیداں سے کہا کہ تم نے احمدیت کا ایک نشان دیکھا ہے اور پھر اس کے خلاف ان لوگوں کی باتیں بھی سنی ہیں مگر تو نے سچی گواہی کو چھپایا ہے اس لئے میں احمدیت کی غیرت کی وجہ سے اب یہ کہتا ہوں کہ اگر اس لڑکی کے بعد بھی تیرے یہاں کوئی اولاد پیدا ہوئی تو یہ سمجھنا کہ یہ لڑکی میری دعا سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ کسی غیر احمدی کی دعا سے پیدا ہوئی ہے اور پھر اگر یہ لڑکی آج کے دن سے ایک سال تک زندہ رہی تو پھر بھی یہی سمجھنا کہ یہ میری دعا کا نتیجہ نہیں بلکہ کسی غیر احمدی کی دعا کا نتیجہ ہے۔پس اب احمدی اور غیر احمدی کی دعا میں یہی ایک ما بہ الامتیاز ہے۔خدا کی قدرت ہے کہ سیداں میری یہ بات سن کر گھر پہنچی ہی تھی کہ اس کی یہ لڑ کی بیمار ہوگئی اور پھر ایک سال کے اندراندر فوت ہو گئی اور اس کے بعد دونوں میاں بیوی بغیر اولاد کے ہی اس دنیا سے کوچ کر گئے۔فاعتبروا یا اولی الابصار۔کرشمہ قدرت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے عہد ہمایوں میں جب غیر احمدیوں کے ہمراہ نماز پڑھنے سے جماعت احمدیہ کو ممانعت ہو گئی اور ہم نے مسجد میں علیحدہ نماز پڑھنی شروع کر دی تو غیر احمدیوں نے میری ذات کو تفرقہ کا موجب سمجھتے ہوئے میری بے حد مخالفت کی۔چنانچہ انہی مخالفت کے ایام میں یہ واقعہ رونما ہوا کہ موضع سعد اللہ پور میں ارائیں قوم کے دو بھائی مہر شرف دین اور مہر غلام محمد جو بڑے بارسوخ آدمی تھے ان میں سے مہر غلام محمد جو خوبصورت اور پہلوان اور جوان کو تھا اس نے دوسری شادی کرنے کے لئے ارائیں قوم کی ایک بیوہ لڑکی کے رشتہ کے متعلق اس کی والدہ اور بھائیوں کو بار بار تحریک کی۔مگر انہوں نے سوتا پے کی وجہ سے یا کسی اور بناء پر اس لڑکی کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔مہر غلام محمد نے جب اپنی کوشش کو ناکام ہوتے ہوئے دیکھا تو