حیات قدسی — Page 618
۶۱۸ کھیل تماشے کا نشانہ بناتے ہیں لہذا میرے نزدیک جو چیز آسیب کہلاتی ہے وہ ہسٹیریا کی بیماری ہے۔اور جو چیز آسیب کے تعلق میں معمول کہلاتی ہے وہ خود نام نہاد آسیب زدہ شخص کا اپنے ہی وجود کا دوسرا پہلو ہے جو غیر شعوری طور پر آسیب زدہ شخص کی زبان سے بول رہا ہوتا ہے اور چونکہ آسیب زدہ شخص لازماً کمزور دل کا مالک ہوتا ہے۔اس لئے جب کوئی زیادہ مضبوط دل کا انسان یا زیادہ روحانی اس پر اپنی توجہ ڈالتا ہے تو وہ اپنی قلبی اور دماغی یا روحانی طاقت کے ذریعہ آسیب کے طلسم کو توڑ دیتا ہے۔مادی لوگ تو محض قلبی توجہ سے یہ تغییر پیدا کرتے ہیں لیکن روحانی لوگوں کے عمل میں روح کی توجہ اور دعا کا اثر بھی شامل ہوتا ہے اور توجہ کا علم بہر حال حق ہے۔پس جب حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے سعد اللہ پور ، راجیکی اور لاہور والے واقعات میں اپنی روحانی توجہ اور دعا کا اثر ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس اثر کا نتیجہ پیدا کر دیا اور آسیب زدہ شخص اپنے نام نہاد آسیب سے آزاد ہو گیا۔باقی رہا سعد اللہ پور کے واقعہ میں برتنوں کا ٹوٹنا اور لاہور کے واقعہ میں انگوٹھی کا غائب ہو کر پھر حاصل ہو جانا۔تو اول تو یہ ثابت ہے کہ علم توجہ کے ماہرین بعض اوقات ایسی طاقت پیدا کر لیتے ہیں کہ بے جان چیزوں پر بھی وقتی طور پر ان کی توجہ کا اثر ہو جاتا ہے۔مثلاً ایسی باتیں سننے میں آئی ہیں کہ ایک جلتی ہوئی موم بتی پر توجہ کی گئی تو وہ بجھ گئی یا کسی بند دروازے کی کنڈی توجہ کے نتیجہ میں خود بخود کھل گئی۔غالباً سعد اللہ پور والے واقعہ میں آسیب زدہ لڑکی نے اپنے دل میں آسیب دور ہونے کی یہ علامت رکھی ہو گی کہ کمرے کے اندر رکھے ہوئے برتن گر جائیں اور حضرت مولوی صاحب کی قلبی اور روحانی توجہ اور دعا سے یہ علامت پوری ہوگئی۔اس طرح لاہور والے واقعہ میں آسیب زدہ لڑکی کے دل میں اپنی انگوٹھی کا خیال آیا ہوگا اور اس نے اپنے خیال میں یہ علامت مقرر کر لی ہوگی کہ انگوٹھی کھوئی جائے اور پھر مل جائے۔یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ چونکہ آسیب زدہ شخص نیم بیہوشی کی حالت میں ہوتا ہے اس لئے اس نے خود ہی انگوٹھی کسی خاص جگہ چھپا دی ہو اور پھر وہاں سے وہ انگوٹھی برآمد ہوگئی ہو۔بہر حال