حیات قدسی — Page 601
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا فلسفہ خاکسار نے ایک مضمون بعنوانِ بالا لکھا تھا۔جو احباب کے فائدہ اور برکت کے لئے یہاں تحریر کیا جاتا ہے۔درود شریف کی اہمیت اور عظمت اسی سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نماز کا فریضہ جسے ہر ایک مسلم کے لئے طرہ امتیاز قرار دیا گیا ہے اور جس کی ادائیگی ہر مومن کے لئے ایسی ہی ضروری قرار دی گئی ہے جیسے قیام زندگی کے لئے غذا اور دفع علالت کے لئے علاج اور دوا۔درود شریف کو اس دائمی اور ابدی عظیم الشان عبادت کا جزو قرار دیا گیا ہے اور جس طرح نماز کے لئے قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں لفظ صلوۃ استعمال ہوا ہے اسی طرح یہی لفظ درودشریف کے لئے رکھا گیا ہے۔جس سے یہ امر قرین قیاس اور صحیح الا مکان معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا نام صلوۃ نماز کے اسی جزو کی بناء پر رکھا گیا ہے جیسے بعض سور قرآنیہ کے اسماء ان کے بعض اجزاء کے نام پر رکھ دیئے گئے ہیں۔علاوہ اس کے درود شریف کا نماز کے ہم اسم ہونے کی صورت میں پایا جانا اس کی اہمیت اور فضیلت کو جس اجلی شان کے ساتھ ظاہر کر رہا ہے۔وہ مخفی نہیں۔فضیلت درود درود شریف بہترین حسنات کے ذخائر اور خزائن میں سے ہے اور اس سے بڑھ کر درود شریف کا پڑھنا اور کیا موجب حسنات ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے اپنا اور اپنے ملائکہ کا فعل قرار دیا ہے جس سے درود شریف پڑھنے والا مومن خدا تعالیٰ اور ملائکہ کا شریک فعل ہو جاتا ہے گو یہ دوسری بات ہے کہ ہر ایک کے درود شریف کی نوعیت جدا گانہ ہے۔درود شریف چونکہ مومنوں کا وصف ہے اس لئے درود شریف علامتِ ایمان اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بھی ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھے تو خدا تعالیٰ اس پر دس دفعہ رحمت نازل فرماتا ہے یہ بشارت دراصل آیت قرآنی مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا 50 کے ماتحت ہے کہ ایک نیکی کی جزا کم از کم دس گنا زیادہ ملتی ہے لیکن عرفان اور نیت کی وسعت سے جزا کا دائرہ اور بھی وسیع ہو جاتا ہے۔