حیات قدسی — Page 577
۵۷۷ المرء مع مَن أحَبَّ جب او پر کا کشفی نظارہ مجھے دکھایا گیا تو میں نے رویا میں ہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ ایک صحابی نے عرض کیا تھا کہ جنت میں حضور کا مقام بہت بلند اور رفیع المنزلت ہوگا لیکن ہم اپنے درجہ کے مطابق بہت پست مقام پر ہوں گے۔پس ہمارے لئے جنت میں حضور کی صحبت سے مستفیض ہونا کیسے ممکن ہوگا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ المرء مع مَنْ أَحَبّ یعنی انسان جس کے ساتھ محبت رکھتا ہے اسی کی معیت اس کو حاصل ہو گی۔یہ واقعہ عرض کر کے میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے محبوں کو بھی آپ کی معیت اسی طرح حاصل ہوگی جس طرح ہوگی جس طر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبین کو حاصل ہے۔اس پر یک دم نظارہ بدلا اور میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دور کے بجائے حضرت المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ کا دور سامنے آگیا اور مجھے بتایا گیا کہ المره مع من احب کی شان والے محب وہی ہوں گے جو حضور کی تحریک جدید میں حصہ لے رہے ہیں اور قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھا رہے ہیں اور اپنے اموال اور جائدادوں کو دینی اغراض کے ماتحت وقف کر رہے ہیں۔اگر ایسی قربانی اور اخلاص کا جذبہ جماعت کے معتدبہ حصہ میں پیدا ہو جائے تو ایک طرف تو وه المرء مع من أحب کی شان کے مستحق ہو جائیں گے اور دوسری طرف قربانی اور خلوص کے اس جذ بہ کو دیکھ کر خدا تعالیٰ اپنی خاص تجلی ظاہر فرمائے گا اور فقدانِ اسباب کی یاس آلود حالت کو بدل کر نئے اسباب حیات پیدا کرے گا اور مرکز احمدیت قادیان کی واپسی کی صورت پیدا ہوگی اور ایسے مخلصین اور عاشقانِ وجہ اللہ فدائیوں کی خاطر اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی قدرت نمائی فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان محبوں اور خدا کی راہ میں فنا ہونے والوں میں شامل فرمائے۔آمین قصیده لامیه ۱۹۲۹ء میں جب خاکسار تبلیغی اغراض کے ماتحت پشاور میں مقیم تھا۔تو میں نے ایک لکھا جس کے ۳۶۰ اشعار تھے۔اس قصیدہ کو لکھنے کے بعد رؤیا میں مجھے سیدنا حضرت مسیح موعود