حیات قدسی

by Other Authors

Page 576 of 688

حیات قدسی — Page 576

۵۷۶ رگِ جان سے بھی زیادہ قریب تھا اس نے ایسے اسباب پیدا کئے کہ مکہ مکرمہ سے جدا ہو کر بھی حیات اسلامی قوت نامیہ حاصل کرتی رہی۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کو اتنی طاقت حاصل ہو گئی کہ آپ دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے اور کافروں اور منافقوں کا یہ وسوسہ کہ مکہ مکرمہ سے جو مسلمانوں کے لئے مرکزی مقام اور رگِ جان کی مانند ہے، نکلنا مسلمانوں کے لئے تباہی کا باعث ہوگا: بالکل غلط ثابت ہوا۔اسلام کی مکہ مکرمہ سے جدا ہو کر ترقی اور عروج خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اول میں ظہور پذیر ہوا اور اس نشان سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے اور رگِ جان کٹ جانے کے بعد بھی اسباب حیات پیدا کر سکتا ہے۔یہی صورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ظاہر ہوگی جبکہ پیشگوئیوں کے مطابق مرکز احمدیت قادیان سے جو جماعت احمدیہ کی ترقی اور نمو کے لئے رگِ جان کے مشابہ تھا۔ہجرت کرنا پڑی اور مخالفین احمدیت اور منافقین نے خیال کیا کہ قادیان چھوڑنے کے بعد اب احمدیوں کی ترقی کی کوئی صورت نہیں۔گویا ان کی رگِ جان کٹ گئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے جو رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے، ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ جب قادیان سے ہجرت کے بعد حضرت سید نا خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اپنے عزم مقبلا نہ سے لاہور میں ڈیرہ ڈالا تو وہاں بھی جماعت ترقی کرتی چلی گئی اور اب حضور نے اپنا نیا مرکز ربوہ تعمیر فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے جماعت دن دونی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے اور کراڈک الى معادٍ۔10 کے وعدہ کے ماتحت یہ مقدر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنا عظیم الشان نشان قادیان کی واپسی کے متعلق دکھائے گا۔اور اس نشان سے ایک دفعہ پھر دنیا پر ظاہر ہو جائے گا کہ خالق الاسباب خدا و زندگی کے اسباب کے فقدان کے بعد نئے اسباب تخلیق کر سکتا ہے اور اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آیت مذکورہ بالا کی جو تشریح پوسٹر میں فرمائی اس کا مفہوم تقریباً وہی تھا جو میں نے اوپر درج کیا ہے۔الفاظ میرے اپنے ہیں۔