حیات قدسی — Page 553
۵۵۳ عالم کو تباہ کرنے والی چیز ہے۔یورپ اور مغربیت میں بلکہ دنیا بھر میں جب بھی امن قائم ہو گا مذہب کے ذریعہ ہو گا۔اور مذاہب عالم میں سے بھی مذہب اسلام اور احمدیت کے ذریعے۔اور وہ وقت دور نہیں کہ زمانہ خود اس کی تصدیق کے سامان پیدا کرے گا اور نظام نو جو سراسر مذہب کی بنیادوں پر قائم کیا جائے گا۔امنِ عالم کا ذریعہ بنے گا۔(۳) مذہب کی وجہ سے مذہب کے اصولوں پر عامل ہوتے ہوئے کبھی فتنہ وفساد کی صورت پیدا نہیں ہوئی اس کی کوئی ایک مثال بھی مذہب کے مخالف پیش نہیں کر سکتے۔ہاں ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مذہب کے نام پر لڑائیاں ضرور ہوئی ہیں مگر مذہب کو چھوڑ کر اور اس کی تعلیم کو پس پشت ڈال کر ایسا ہوا ہے۔اور اگر وہ لڑائیاں قابل اعتراض بتائی جائیں جو قیام امن کے لئے حاملین مذاہب نے کیں تو یہ چیز قابل اعتراض نہیں۔بلکہ یقیناً لائق صد تحسین ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنے اور مظلوموں کو ظالموں کی چیرہ دستیوں سے بچانے کے لئے مٹھی بھر جماعتوں نے ہر زمانہ میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر زبر دست جنگجو قوموں کا مقابلہ کرنے سے دریغ نہیں کیا۔کیا کوئی عقلمند ا سے مذہبی لوگوں کے لئے باعث ملامت قرار دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔(۴) پھر معترضین حضرات ذرا اتنا تو سوچیں کہ اگر صرف مذہب کے نام پر چند خود غرض لوگوں کا نا جائز فعل مذہب کے نام پر دھبہ لگاتا ہے اور ان کے نزدیک یہ بات انہیں ترک مذہب پر آمادہ کرتی ہے۔تو کیا آئے دن جو دنیا داری کی خاطر کثرت سے نہ صرف جہلاء بلکہ بڑے بڑے عقلاء اور مدبرین جو دنیا کی خاطر لڑائیاں کرتے ہیں۔تو کیا وہ اس کی وجہ سے دنیا کو چھوڑ دیں گے۔دیدہ باید (۴) تیسرا سوال۔موجودہ زمانہ میں مذہب کی کیا ضرورت ہے؟ جواب (۱) اگر چہ مذہب کی ضرورت ہر زمانہ کے لوگوں کو رہی ہے۔لیکن میرے خیال میں مذہب کی ضرورت موجودہ زمانہ میں سب زمانوں سے زیادہ ہے اس لئے کہ مذہب کی صحیح اور اصلا غرض خدا کا عبد اور مظہر بنانا ہے اور تُخَلَّقُوا بِاَخلاقِ الله : یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنا اخلاقی