حیات قدسی

by Other Authors

Page 41 of 688

حیات قدسی — Page 41

۴۱ ان دونوں نے جب زلزلہ کی پیشگوئی کے بارہ میں یہ اشتہار دیکھا اور میری باتیں بھی سنیں تو مجھے پوچھا کہ یہ موعودہ زلزلہ کب آئے گا۔میں نے انہیں از روز ئے قرآن مجید سمجھایا کہ معین وقت تو خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ یہ پیشگوئی ضرور وقوع میں آئے گی۔انہوں نے پھر اس پیشگوئی کا مقررہ وقت دریافت کرنے میں کفار مکہ کی طرح يَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ : پر اصرار کیا اور میں نے پھر قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللهِ ص وَ إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ کے مطابق جواب دیا۔آخر جب وہ پیچھے ہی پڑ گئے تو میں نے کم علمی کی بنا پر حضور اقدس علیہ السلام کے اشتہار النداء من الوحي السماء کے اس شعر سے کہ زلزلہ سے دیکھتا ہوں میں زمیں زیروزبر وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے غلط اجتہاد کرتے ہوئے ان سے کہہ دیا کہ حضور اقدس علیہ السلام کے اس ارشاد سے کہ وقت کے اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی سال کے اندر اندر پوری ہو جائے گی۔انہوں نے کہا اگر ایسا نہ ہوا تو آپ کو مرزا صاحب کا دعوی جھٹلا نا ہو گا۔میں نے کہا یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا البتہ اپنے اجتہاد کو غلط سمجھ لوں گا۔چنانچہ اس کے بعد ان دونو نے مجھ سے اس میعاد کے متعلق تحریر لے لی اور چلے گئے۔خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ یہ تحریر انہوں نے اپنے پاس ہی رکھی اور کسی کو نہ دکھائی تھی کہ ان میں سے ایک شخص اس میعاد کے تیسرے مہینے مر گیا اور دوسرا ساتویں مہینے اس جہان سے کوچ کر گیا۔اور ان کی وہ باتیں کہ ہم اس پیشگوئی کے میعاد کے اندر پورا نہ ہونے پر آپ کی گاؤں گاؤں بدنامی کریں گے خدا تعالیٰ نے پوری نہ ہونے دیں اور ان کے شر سے محفوظ رکھا۔اور میری اجتہادی غلطی کے متعلق چشم پوشی فرمائی۔موضع رنمل کا واقعہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ میں اور حضرت حافظ روشن علی صاحب اور مولوی غوث محمد صاحب اور حکیم علی احمد صاحب رضی اللہ عنہم ضلع گجرات کا تبلیغی دورہ کرتے ہوئے حافظ صاحب کے گاؤں موضع رنمل تحصیل پھالیہ گئے۔برسات کا موسم تھا اور آپ