حیات قدسی — Page 40
۴۰ علیہ السلام ہمارے مکان کے اوپر کھڑے ہیں اور حفاظت فرما رہے ہیں۔چنانچہ ہمارا گھر تو حضور اقدس علیہ السلام کی برکت سے محفوظ رہا مگر ان بدخواہوں کے گھر طاعون سے ماتم کدے بن گئے۔فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِر - داور محشر غلام احمد کے فوت ہو جانے کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت کا روز ہے اور اللہ تعالیٰ نہایت ہی جلال کے ساتھ عدالت کی کرسی پر جلوہ فرما ہے۔اتنے میں غلام احمد کو اور مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور بلا یا گیا تو اللہ تعالیٰ نے غلام احمد سے پوچھا کہ تو نے مسیح موعود کی تکذیب اور انکار کیوں کیا۔کیا تجھے ان کے متعلق علم نہیں ہوا تھا۔اس کے جواب میں غلام احمد نے کچھ عذر کیا تو میں نے کہا کہ کیا میں نے بار بار سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور اور آمد کے متعلق اطلاع نہیں دی تھی۔اور کیا میں نے تبلیغ کے ذریعہ سے حضرت اقدس کے دعوئی اور دلائل کو نہیں سمجھا دیا تھا۔جب میں خواب سے بیدار ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصدیق اور تکذیب کے متعلق بھی ضرور باز پرس ہوگی۔خدا تعالی کی پردہ پوشی ۱۹۰۵ء عیسوی میں جب حضور اقدس علیہ السلام نے زلزلہ کے بارہ میں بہت سے اشتہارات شائع فرمائے تھے تو میں ان دنوں حضور عالی کی بارگاہ اقدس میں قادیان میں ہی موجود تھا۔اس لئے ہے جب گاؤں واپس لوٹا تو اپنے ساتھ یہ اشتہارات بھی لیتا آیا۔جن میں سے کچھ تو میں نے آتے ہوئے گاڑی میں تقسیم کر دئیے اور کچھ اپنے ساتھ گاؤں لے آیا۔ان دنوں موضع گڑ ہو کا ایک زمیندار خوشی محمد نامی جو احمدیت کی تبلیغ کی وجہ سے میرا بے حد مخالف تھا مجھے ملا تو میں نے زلزلہ کا ایک اشتہار سے بھی دے دیا اور بتایا کہ جو پہلے زلزلہ آچکا ہے اب اس سے بھی زیادہ شدید زلزلہ آئے گا۔اس لئے آپ کو چاہیئے کہ آپ پہلے زلزلہ سے عبرت حاصل کریں اور خدا کے مرسل کی تکذیب سے باز آ جا ئیں۔اس وقت خوشی محمد کے ساتھ ہمارے گاؤں کا ایک زمیندار مولا داد ولد غلام محمد بھی کھڑا تھا۔یہ شخص بھی احمدیت کی وجہ سے میرا بڑا سخت معاند تھا۔