حیات قدسی — Page 532
۵۳۲ اطاعت در نمونه مطیع مطاع با باتحاد , تصوف در یگانه یکتا در تعرف بموهبت مثیل تحصیل و نافع الخلق حامی خاندان و موتش ملت بیر دنیا و دین به فیض کفیل | ہمراز در حریم قدس بقرب دخیل فیضیاب از مسیح مطلع نور مظهر انبیاء شیخ نبیل با مسیح جهان نسبت داشت چون به اختش شده مسیح حلیل دود مانش بعز اختش یافته عزتے بصد تفضيل آه و صد آہ کہ ایں چنیں محبوب شد مفارق زما بوقت بوقت قلیل سال رحلت و مغفورش ماه شعبان و جمعه روز رحیل خدا رضا دادیم با قضائے مومنان را رضاء و صبر جمیل عرش الہی سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد سعادت کے آخری ایام میں مجھے کشفی طور پر روحانی سیر کرائی گئی اور آسمانی بلندیوں میں پرواز کر وایا گیا۔میں نے دیکھا کہ ایک شخص جو میرے ساتھ کھڑا ہے مجھے کہتا ہے کہ عرش کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے۔میں نے اسے کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں میں آپ کو عرش دکھاتا ہوں چنانچہ ہم دونوں نے پرواز کرنا شروع کیا اور ساتویں آسمان سے گذر کر ہم اوپر نکل گئے۔وہاں پر ہمیں ایک نئی قسم کا آسمان نظر آیا۔جس کے نیچے شفق نما سرخی جو نیچے سے نظر آرہی ہے عرش کی ہے تب میرے ساتھی نے کہا کہ ہم عرش کو اوپر سے بھی دیکھنا چاہتے ہیں اس کے بعد آنا فانا ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ہم عرش کے اوپر کی طرف ہیں اور ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم عرش کے کنارے پر کھڑے ہیں اس جگہ سے ہمیں عرش کے وسط میں ایک قبہ نور نظر آتا ہے جس سے نہایت تیز شعاعیں نکل رہی ہیں کہ آنکھیں ان کی تاب نہیں لاسکتیں۔میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ چلو اس جلوہ نما قبہ کو قریب جا کر دیکھیں میرے ساتھی نے آگے جانے سے معذوری کا اظہار کیا۔تب میں نے کہا کہ اگر آپ نہیں جا سکتے تو نہ جائیں لیکن میں تو قریب