حیات قدسی — Page 508
۵۰۸ جب خاکسار نے یہ نظم سنائی تو اس مجلس میں حضور اقدس علیہ السلام کے قریب حضرت مولنا نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ، حضرت مولوی فضل دین صاحب بھیروی و غیر ہم بزرگان سلسلہ بھی موجود تھے۔نظم سنانے کے بعد حضرت منشی محمد افضل صاحب ایڈیٹر اخبار البــــــدر نے وہ نظم مجھ سے لے کر کا من احمدی“ کے نام سے شائع کر دی۔اور دیہات میں احمدی مستورات اور لڑکیاں ایک عرصہ تک اس کو گا کر پڑھتی رہیں۔اور اس سے تبلیغی فائدہ پہنچتا رہا۔خدا تعالیٰ کے الہام بعض دفعہ خدا تعالیٰ اپنی حکمت کے ماتحت گذشتہ زمانہ کے معروف اشعار، مصرعے، مقولے بطو ر الہام نازل فرما دیتا ہے۔قرآن کریم کی آیت اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ کے متعلق عیسائیوں نے بے سمجھی سے اس وجہ سے اعتراض کیا ہے کہ یہ کسی سابقہ زمانے کے شاعر کے کلام کا حصہ ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر خدا تعالیٰ نے کئی الہامات ایسے نازل فرمائے ہیں جو کسی گذشتہ شاعر یا بزرگ کے کلمات کا حصہ ہیں۔مثلاً حضور اقدس علیہ السلام کا الہام عَفَتِ الذِيَارُ مَحَلُّهَا وَمُقَامُهَا 28 مشہور شاعر لبید کے ایک قصیدہ کا ( جو سبع معلقات میں شامل ہے ) کا مصرعہ ہے۔اسی طرح حضرت مولوی نظامی گنجوی کی کتاب خسروشیریں کا ایک شعر ہے۔۔بدین امید ہائے شاخ در شاخ کرمہائے تو مارا کرد گستاخ شعر علیہ ہوا اس شعر کا دوسرا مصرعہ حضرت اقدس علیہ السلام کو الہام ہوا۔حضرت شیخ سعدی کے مندرجہ ذیل اشعار بھی حضور پر الہاما نازل فرمائے گئے۔ا:۔دلم مے بلرزد چو یاد آورم ۲:۔مناجات شوریده اندر حرم 30 انجام جاہل جہنم بود کہ جاہل نکو عاقبت کم بود 31